سوراب سانحہ: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا عالمی اداروں سے فوری نوٹس اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیانات میں ضلع سوراب کے علاقے گدر (گندان) میں عام آبادی پر جیٹ طیاروں کی بمباری اور شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کہا ہے کہ پاکستان کا قیام اور وجود بلوچ نسل کشی سے جڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تشکیل اور وجود کا جشن اسی طرح مناتا ہےبے گناہ بلوچ شہریوں بشمول بچوں کے قتلِ عام اور نسل کشی کے ذریعے۔ کل رات پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ضلع سوراب کے قصبے گندان پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ملبے سے کم از کم 20 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ متاثرہ علاقے کو پاکستانی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے، جس سے ریسکیو ٹیموں، طبی عملے، ایمبولینسوں اور صحافیوں کی رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ انسانی امداد اور آزادانہ دستاویزی کارروائیوں کو روکنا انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاوا دیتا ہے اور فوری عالمی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں صحافیوں، طبی ٹیموں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ متاثرہ علاقے تک فوری رسائی کا مطالبہ کریں اور متاثرین تک طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔”

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوال اٹھایا کہ سوراب کے بچوں کا کیا قصور ہے؟۔ان کے گھروں پر بم کیوں گرائے گئے؟۔دنیا کب تک خاموش رہے گی؟”

بی وائی سی رہنما کا کہنا تھا کہ 12 اگست 2026 کو بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے گدر کی شہری آبادی کو پاکستانی عسکری طیاروں کی مہلک بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ گھروں پر اس وقت بم گرائے گئے جب خاندان اندر موجود تھے، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عام شہری مارے گئے۔ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے، جبکہ رہائشی تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے اپنے پیاروں کی لاشیں اور زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کے بعد، سوگوار خاندانوں اور رہائشیوں نے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں مین چوک سوراب میں آر سی ڈے (RCD) روڈ پر رکھیں اور دھرنا شروع کر دیا۔ وہ احتساب اور گنجان آباد شہری علاقوں میں ملٹری آپریشنز کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوراب کی فضاؤں میں ڈرونز اور کوبرا ہیلی کاپٹروں کی مسلسل موجودگی نے مقامی آبادی میں خوف کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ سوراب میں ہونے والے ان قتلِ عام کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بلوچستان بھر میں شہری آبادیوں پر بار بار ہونے والے فضائی حملے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی امدادی قوانین کے تحت شدید تشویش کا باعث ہیں۔ اقوامِ متحدہ (UN)، ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International)، ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں کو ان ہلاکتوں کی فوری تحقیقات کرنی چاہیے اور ضائع ہونے والی ہر شہری زندگی کے لیے احتساب کا مطالبہ کرنا چاہیے۔”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article