بلیدہ اور کوئٹہ میں ڈیتھ اسکواڈ پر حملے، ایک شخص ہلاک ، متعدد زخمی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے سریاب ملز کے قریب نا معلوم افراد کی فائرنگ سے فاروق محمد حسنی نامی شخص ہلاک ہوگیا جبکہ بلیدہ سوراپ میں ایک گھر پر مسلح افراد کے حملے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گذشتہ روز کوئٹہ کے علاقے سریاب ملز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے فاروق محمد حسنی نامی ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ سریاب ملز کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے فاروق محمد حسنی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ شدید گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد فاروق محمد حسنی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیراؤ میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فاروق محمد حسنی کے قتل کی وجوہات اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے چھان بین جاری ہے، تاہم تاحال حملے کا پس منظر اور ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

دوسری جانب یہ دعوے بھی سامنے آرہے کہ ہیں کہ فاروق محمد حسنی کا تعلق ریاستی ڈیتھ اسکواڈ سے تھا۔ اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر پاکستان آرمی اور دیگر ملیٹری فورسز کے ساتھ اس کے تصاویر بھی گردش کر رہیں ہیں۔

دوسری جانب بلیدہ سوراپ میں ایک گھر پر مسلح افراد کے حملے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق غروب آفتاب کے بعد علاقہ دھماکوں اور شدید فائرنگ سے گونج اٹھا۔ مبینہ طور پر یہ حملہ ایک شخص کی رہائش گاہ پر ہوا جس کی شناخت مسلم جیئند کے نام سے ہوئی ہے، جہاں اس وقت کئی دوسرے لوگ بھی موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں مسلم جیئند اور کم از کم تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق مسلم جیئند اس سے قبل ایک بلوچ مسلح تنظیم سے وابستہ تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نے بعد میں ہتھیار ڈال دیے اور فی الحال ایک مسلح گروپ کی قیادت کر رہا ہے جسے مقامی طور پر "ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، جسے پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article