بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی کے پیشِ نظر سخت اقدامات کے نام پر کاروباری مراکز بند کرا دیے گئے ہیں جبکہ اہم شاہراہوں پر آمدورفت کو شدید محدود کر دیا گیا ہے۔ نوشکی، پنجگور، کوئٹہ اور تربت سمیت متعدد شہروں میں کرفیو اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
ضلع نوشکی میں مرکزی بازار اور اس سے ملحقہ تمام داخلی و خارجی راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور علاقے میں پاکستانی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کی سخت تعیناتی اور پابندیوں کی وجہ سے علاقے میں کرفیو جیسا ماحول بن چکا ہے اور شہری اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
اسی طرح پنجگور میں بھی مختلف اہم شاہراہیں، مرکزی بازار اور تجارتی مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہیں۔
مقامی دکانداروں نے بتایا ہے کہ انہیں پاکستانی فورسز کی جانب سے بازاروں کی طرف جانے سے روکا گیا، جس کے نتیجے میں چتکان بازار سمیت کئی اہم تجارتی مراکز بند ہو چکے ہیں اور تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جہاں متعدد اہم شاہراہوں کو ٹرک اور کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیا گیا ہے۔ اسپنی روڈ، چمن پھاٹک، جوائنٹ روڈ، زرغون روڈ اور ریڈ زون سمیت شہر کے دیگر اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے شہریوں کی آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
دریں اثنا، ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے علاقے ناصر آباد اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بھی فورسز کی جانب سے بازار اور دکانیں بند کرائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے باعث مقامی تاجروں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سفری سہولیات کے حوالے سے ٹرانسپورٹ یونین کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر کراچی، تربت اور گوادر کے درمیان چلنے والی دوطرفہ بس سروس 13، 14 اور 15 اگست کے لیے مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے جبکہ متعلقہ بس ٹرمینلز بھی بند رہیں گے۔ بس سروسز کو 16 اگست سے معمول کے مطابق بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ریلوے حکام کے مطابق پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو آج ایک روز کے لیے کوئٹہ کے بجائے جیکب آباد تک محدود رکھا گیا ہے، جس سے بلوچستان اور دیگر صوبوں سے سفر کرنے والے مسافروں کو شدید سفری پریشانی کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی کے نام پر جگہ جگہ خندقیں کھود دی گئی ہیں اور بھاری نفری تعینات ہے۔
عوامی و سیاسی حلقوں اور شہریوں نے اس کرفیو جیسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی ادارے صرف ایک پاکستانی پرچم لگانے کی خاطر پورے پورے شہر اور سڑکیں بند کر کے عوام کو شدید اذیت اور معاشی تنگ دستی میں مبتلا کر رہے ہیں۔