بلوچستان کے علاقے پنجگور سے 5 نعشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں شناخت اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے مذکورہ افراد عسکریت پسند تھے جو ا ایک فوجی کارروائی میں مارے گئے تاہم ان میں ایک کی شناخت جبری لاپتہ نوجوان کے طور پر ہوگئی ہے ۔
فوجی ذرائع کے دعوے کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
تاہم برآمد ہونے والی لاشوں اور فوج کی کارروائی کے درمیان تعلق کے حوالے سے تاحال سرکاری سطح پر واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں سے ایک کی شناخت پیر جان ولد کچکول کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں رواں سال 10 جون کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دیگر لاشوں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی پانچوں لاشیں ان افراد کی ہیں جو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے، تاہم اس حوالے سے مزید تصدیق اور شناخت کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع سے متعدد لاشیں ملنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بعض کی شناخت جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے طور پر ہوئی ہے۔جنہیں دوران حراست یا جعلی کارروائی میں ماورائے عدالت قتل کرکے انہیں مسلح افراد قرار دیا جاتا رہا ہے۔
ہلاک کئے افراد کے حوالے سے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے پنجگور میں فوج کے ہاتھوں 5 افراد کی ہلاکت اور کامیاب آپریشن پر فوج کی ستائش کی ہے ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرکے 5 عسکریت پسندوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ سکیورٹی فورسز کے بہادر جوان قوم کا سرمایہ افتخار ہیں اور قوم کے بہادر سپوت بلوچستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔