گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ کے رہنماؤں عارفہ عبداللہ، رضوانہ دلمراد، فریدہ بلوچ، صابر حیاتان اور نصیر نگوری نے گوادر پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے علاقے کے نوجوانوں کے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، ماہی گیری اور معاشی مواقع سے متعلق اپنے 16 نکاتی مطالبات کا تفصیلی چارٹر میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے یوتھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبے اور بین الاقوامی تجارتی ادارے قائم ہو رہے ہیں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی نوجوان ان تمام منصوبوں میں اپنے جائز اور قانونی روزگار کے مواقع سے مسلسل محروم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خطے میں ترقی کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ وہ اس ترقی کے ثمرات میں مقامی آبادی اور نوجوانوں کی مؤثر شمولیت چاہتے ہیں۔
رہنماؤں نے روزگار کے حوالے سے واضح مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ کے تمام منصوبوں میں کم از کم 70 فیصد اور گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں کم از کم 50 فیصد روزگار کے مواقع صرف اہل مقامی نوجوانوں کے لیے مختص کیے جائیں۔ اس کے علاوہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA)، محکمہ فشریز، صنعتی اداروں، یونیورسٹی اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں گریڈ 1 سے 14 تک کی تمام اسامیوں پر مکمل طور پر مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔
مطالبات کی تفصیلات بتاتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مقامی نوجوانوں کے لیے جدید فنی تربیت، انٹرن شپ اور اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرامز شروع کیے جائیں، تاکہ وہ تجارت، کسٹمز اور لاجسٹکس جیسے جدید شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے طبی شعبے میں مقامی افراد کو مواقع دینے، این جی اوز میں لوکل ایمپلائمنٹ پالیسی نافذ کرنے اور گوادر کے بومیکن ماہی گیروں کے روزگار اور حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا۔
گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ کے رہنماؤں نے مختلف اداروں میں طویل عرصے سے کنٹریکٹ کی بنیادوں پر کام کرنے والے مقامی ملازمین کو باقاعدہ قواعد کے مطابق مستقل کرنے اور اداروں میں کنٹریکٹ سسٹم کے ناجائز استعمال اور استحصال کو فوری ختم کرنے کا بھی شدید مطالبہ کیا۔
انہوں نے اپنے موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ جدوجہد اور 16 نکاتی مطالبات کسی بھی غیر مقامی فرد کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ یہ محض گوادر کے نوجوانوں کے آئینی، قانونی اور انسانی حقِ روزگار کی بحالی کے لیے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مطالبات پر فوری طور پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور موومنٹ کے نمائندگان کو اعتماد میں لیا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر یوتھ موومنٹ کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کے مقامی نوجوانوں کی عملی اور مؤثر شمولیت کے بغیر خطے میں کسی بھی قسم کی ترقی کا عمل نہ تو شفاف ہو سکتا ہے اور نہ ہی مکمل تصور کیا جا سکتا ہے۔