بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جہاں تازہ ترین واقعات میں ضلع واشک اور کیچ سے ایک پولیس اہلکار سمیت 2 مزید نوجوانوں کو پاکستانی فوج کی جانب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلع خاران سے ایک سال قبل جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نوجوان جیئند بلوچ باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ضلع واشک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 6 اگست 2026 کو رات 8:30 بجے گواشنک روڈ کے مقام سے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح افراد نے 24 سالہ پولیس کانسٹیبل کامران جمعہ ولد محمد جمعہ (سکونتی گواشنک، واشُک) کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
اسی روز ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے ایک اور واقعہ سامنے آیا جہاں 6 اگست 2026 کو صبح 8:30 بجے دمبانی بٹ کے مقام سے سیکیورٹی فورسز نے 21 سالہ مزدور شمس الرحمٰن ولد ماسٹر شے بجار کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
دوسری جانب، ضلع خاران کے رہائشی جیئند بلوچ ولد ڈاکٹر احمد خان (سکونتی کلی اٹک، خاران)، جنہیں 7 اگست 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، ایک سال کے طویل عرصے بعد 6 اگست 2026 کو کوئٹہ میں باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں۔