8 اگست کے شہدائے وکلا کو خراجِ عقیدت،ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے 8 اگست 2016 کے سانحہ میں شہید ہونے والے وکلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا ایک ایسا المناک اور سیاہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس روز کوئٹہ میں بلوچستان کے درجنوں نامور وکلا کو ایک منظم دہشت گردی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جو نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع تھا بلکہ بلوچستان میں قانون، انصاف اور انسانی حقوق کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک سنگین کوشش بھی تھی۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ شہدائے وکلا صرف اپنے خاندانوں کے نہیں بلکہ بلوچستان کے اجتماعی شعور اور قومی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مظلوموں کے لیے آواز اٹھائی اور قانون و انصاف کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی شہادت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں حق، انصاف اور قومی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو طویل عرصے سے مختلف شکلوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، مگر ایسے واقعات بلوچ قوم کے عزم اور شعور کو ختم نہیں کر سکتے۔

ترجمان نے کہا کہ آٹھ سال گزرنے کے باوجود سانحہ 8 اگست کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو مکمل طور پر انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جانا شہداء کے لواحقین، وکلا برادری اور بلوچستان کے عوام کے زخموں کو مزید گہرا کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں انصاف کے بغیر امن اور قانون کی بالادستی محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ 8 اگست کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بناتے ہوئے تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور شہداء کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شہدائے وکلا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں تعلیم، انصاف، انسانی حقوق، قومی برابری اور حقِ حاکمیت کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ شہداء کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت، حوصلے اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی علامت رہے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article