وکلا نے شہدائے 8 اگست کوئٹہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے آج عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔
مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے سانحۂ 8 اگست 2016 کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ شہدائے 8 اگست کی یاد میں آج مکران ڈویژن بھر کی عدالتوں میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 8 اگست 2016 بلوچستان اور پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے، جب کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر شہید بلال انور کاسی ایڈووکیٹ سمیت درجنوں وکلاء، صحافی اور شہری شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ان کے بقول یہ حملہ صرف افراد پر نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، آئین اور جمہوری اقدار پر حملہ تھا۔
عبدالمجید دشتی نے کہا کہ اس سانحے میں بلوچستان اپنے کئی قابل، ذہین اور باصلاحیت وکلاء سے محروم ہوا، جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے وکلاء کی قربانیاں قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے تھیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحۂ 8 اگست کے بعد قائم ہونے والے سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ترجمان نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وکلاء، ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالتی عملے کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عدالتی نظام سے وابستہ افراد کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے آخر میں شہدائے 8 اگست کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔