کراچی سے پاکستانی فوج نے مزید 3 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ 5 جبری لاپتہ طالب علم بازیاب ہوگئے۔
کراچی کے علاقے ماری پور ٹکری میں گزشتہ چند روز کے دوران 3افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 28 سالہ صابر ولد عزیز، جو پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں اور ٹکری، ماری پور کراچی کے رہائشی ہیں، کو 6 اگست 2026 کی شب تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر ان کے گھر کے قریب سڑک سے رینجرز اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔
اسی طرح ایک اور واقعے میں 30 سالہ عبدالعزیز ولد نور داد، جو مزدوری کرتے ہیں اور ٹکری کے رہائشی ہیں، کو 7 اگست 2026 کی رات تقریباً 2 بجے ان کے گھر سے رینجرز اہلکار حراست میں لے گئے۔
دریں اثنا 28 سالہ عامر ولد عبد الواحد، جو مقامی دکاندار ہیں، 5 اگست 2026 کی شام تقریباً 8 بجے رینجرز اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے۔
اہلِ خانہ کے مطابق ان کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
دوسری جانب کراچی کے گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے 5 اگست کو فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کئے گئے 5 بلوچ بازیاب ہوگئے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے پانچوں طالب علموں کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پانچ بلوچ طلباء قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کے ہاتھوں 5 اگست کی شب کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے اظہر بلوچ، غوث بخش بلوچ، شہزاد بلوچ، انیس بلوچ اور وسیم بلوچ کو رہا کر کے بحفاظت گھر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم دو دیگر طالب علم خلیل بلوچ اور زبیر بلوچ تاحال حراست میں ہیں اور ان کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔
بساک کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم ان کی بحفاظت رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے، لیکن ہم پھر بھی بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے اور ان کی گمشدگیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کسی بھی طالب علم کو اس گھناؤنی سزا کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور جبری گمشدگیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام طلباء کو بحفاظت رہا کیا جائے۔