بلوچستان کے ضلع بارکھان کی جیل میں تین نوجوانوں کی منتقلی کی اطلاعات کے ساتھ ان کی ایک تصویر منظرِ عام پر آئی ہے۔
تصویر میں نظر آنے والے نوجوانوں کی ابتر حالت اور حلیے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ افراد پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تحویل میں جبری لاپتہ تھے، جن کی گرفتاری اب جیل منتقل کر کے ظاہر کی گئی ہے۔
موصول ہونے والی معلومات کے مطابق بارکھان جیل منتقل کیے گئے نوجوانوں کی شناخت شاہ جہان ولد عبدالمالک محمد حسنی (سکنہ منگچر)، محمد قابل ولد منظور احمد کرد (سکنہ، جلال آباد، مچھ) اور لالا ظاہر ولد محمد طاہر میروانی (سکنہ،پنجگور) کے ناموں سے کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر اور معلومات کے ساتھ یہ اپیل کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ان افراد یا ان کے اہل خانہ و رشتہ داروں سے واقف ہو، تو وہ فوری طور پر بارکھان جیل انتظامیہ یا متعلقہ حکام سے رابطہ کرے تاکہ ان کے لواحقین کو ان کی موجودگی اور خیریت کی اطلاع مل سکے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں مہینوں یا سالوں سے جبری لاپتہ کیے گئے افراد کو خفیہ طریقے سے مختلف جیلوں میں منتقل کر کے ان کی گرفتاری ظاہر کی جاتی رہی ہے۔
حقوقِ انسانی کے فعال کارکنان کا کہنا ہے کہ منظر عام پر آنے والی تصویر میں نوجوانوں کے چہروں کی زردی اور جسمانی حالت طویل عرصے تک ٹارچر سیلز میں رکھنے کا واضح تاثر دیتی ہے۔