پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) میں درج کر دی گئی ہے۔
کبل پولیس سٹیشن کے باہر یہ دھماکہ اتوار کی شام اُس وقت ہوا جب سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف مقامی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔
کبل ریجن کی ڈپٹی کمشنر عائشہ ناصر کے مطابق دھماکہ شام تقریباً چھ بجے ہوا جب ایک خودکش بمبار نے مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اُن کے بقول جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے جسم سے بندھے دھماکہ خیز مواد کو اُڑا دیا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہو گئے۔
مالاکنڈ کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس پولیس سٹیشن میں دیگر سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اے ایس آئی اور چار کانسٹیبل شامل ہیں۔
پولیس سٹیشن کے قریب اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام امن پاسون کی جانب سے کیا گیا تھا۔ سنیچر کو اس حوالے سے وضاحت بھی جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاسون کو این او سی نہیں دیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب سوات میں دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہو، اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر مقامی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے جلسوں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔