ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین جیئند بلوچ کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ جیئند بلوچ کو 24 جولائی 2026 کو پر سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتا کر دیا، اور ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ تیسرا موقع ہے کہ جیئند بلوچ جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں، اور تنظیم نے اس واقعے کو بلوچ طلبہ کارکنوں کو ان کی پُرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے باعث نشانہ بنانے کے ایک مبینہ تسلسل کا حصہ قرار دیا۔
تنظیم نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ جیئند بلوچ کے بارے میں فوری طور پر ان کی موجودہ حالت اور مقام سے آگاہ کریں، ان کی سلامتی کو یقینی بنائیں اور انہیں قانون کے مطابق تحفظ فراہم کریں۔