وی بی ایم پی کے جاری احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ ذیشان نیچاری کے اہلِ خانہ کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6312ویں روز بھی جاری رہا۔

عثمان کاکڑ سمیت دیگر افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

آج جبری لاپتہ ذیشان نیچاری کے والد محمد خان نیچاری نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے ذیشان نیچاری کو 2 جنوری 2013 کو کلی بنگلزئی، سریاب، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کا مقدمہ کمیشن برائے لاپتہ افراد میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ آج وہ اس کیس کے سلسلے میں جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ذیشان نیچاری کی جلد اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ذیشان نیچاری سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے یا انہیں رہا کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article