بلوچستان و سندھ سے بزرگ اور نوجوان سمیت مزید 6 بلوچ پاکستانی فوج کے ہاتھوں لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف اضلاع اور سندھ سے بزرگوں اور نوجوانوں سمیت مزید 6 بلوچ شہریوں کے اغوا اور جبری گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بلوچ حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کے پیچھے پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملوث ہیں۔

ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہری ہیبتان ولد مالو مری (سکنہ بیلہ) کو 9 جولائی 2026 کو بیلہ کراس کے مقام سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اہل خانہ کے مطابق انہیں فورسز نے اپنی تحویل میں لیا جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

ضلع کیچ کے علاقے کلاتک (تربت) سے 19 سالہ نوجوان ننیب بلوچ ولد منیر احمد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار 12 جولائی 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے ننیب بلوچ کو ان کے گھر سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

مکران ڈویژن میں ہی تربت کے علاقے کلاتک سے نامعلوم مسلح افراد نے ایک اور شہری سیٹھ گل خان کو اسلحے کے زور پر اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

واقعے کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

اسی طرح 24 سالہ نوجوان کسان یونس بلوچ ولد انور (سکنہ حاجی شاہ علی ولیج، شرافی ملیر، کراچی) کو 29 جولائی 2026 کی رات 10:00 بجے سندھ کے علاقے ٹنڈو اللہ یار میں واقع عمر ساند ابراہیم شاہ پولٹری فارم سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

ملیر کراچی کے رہائشی 35 سالہ عبدالمجید ولد حاجی غلام محمد (پیشہ پلمبر) کو بھی 29 جولائی 2026 کی رات 10:30 بجے شاہراہِ بھٹو، کراچی سے اس وقت رینجرز نے حراست میں لیا جب وہ کام سے گھر واپس لوٹ رہے تھے۔

مستنگ کے علاقے سراوان ٹاؤن کے رہائشی اور پیشے سے دکاندار، 20 سالہ نوجوان کفایت اللہ بلوچ ولد سرفراز خان بلوچ کو قلات کے علاقے منگوچر سے فرنٹیر کانسٹیبلری (FC) نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا، جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حالیہ مہینوں میں ایسے واقعات میں مزید تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

لواحقین کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام کارروائیاں پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) کی سرپرستی میں کی جا رہی ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی بھی الزام ہے، تو انہیں خفیہ حراست میں رکھنے کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article