حکومتِ بلوچستان کی جانب سے نافذ کیے گئے کرفیو کے باعث نوشکی شہر اور گردونواح میں چوتھے روز بھی معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں، جس کے خلاف مقامی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔
کرفیو کی وجہ سے نوشکی شہر کے تمام چھوٹے بڑے بازار، تجارتی مراکز اور مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر سنسان اور ویران دکھائی دے رہی ہیں۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ بلوچستان نے امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر نوشکی میں 31 جولائی تک کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
دوسری جانب، ڈسٹرکٹ بار کونسل نوشکی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے اپنے الگ الگ بیانات میں انتظامیہ سے کرفیو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے غریب عوام اور دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرفیو نافذ کرنا یا عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنا کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر یہ پابندیاں اٹھا کر شہریوں کو ریلیف فراہم کرے۔