بلوچستان کے ضلع خضدار میں ڈیجیٹل لائبریری کی بندش پر طلبہ کی جانب سے ایک پُرامن واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں نے اپنے تعلیمی حقوق کے لیے پُرامن انداز میں شرکت کی۔
واک کے اختتام پر،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈیجیٹل لائبریری کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا گیا اور بعض طلبہ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔
لائبریری کو بند کیے جانے کے بعد طلبہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے سڑک کنارے بیٹھ کر مطالعہ کرنے پر مجبور ہیں، جو نہایت افسوسناک صورتِ حال ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مناسب ماحول فراہم نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔
احتجاجی طلباء نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا کسی فرد، ادارے یا انتظامیہ سے ذاتی اختلاف نہیں۔ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہے، اور ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے جائز اور بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جائے تاکہ طلبہ کو بلا رکاوٹ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا حق حاصل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام ہمارے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں منصفانہ طریقے سے حل کریں گے۔
ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے، تو ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے کل پُرامن انداز میں مرکزی شاہراہ پر احتجاج کریں گے۔ ایسی صورتِ حال کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔