جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ آج 6309 ویں روز میں داخل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ آج 6309ویں روز بھی جاری رہا۔

آج جبری لاپتہ اسد اللہ بلوچ کے بھائی نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی اسد اللہ بلوچ کو 14 مارچ 2014 کو ایس جی کالونی، بلوچستان یونیورسٹی کے قریب سے مبینہ طور پر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا، جس کے بعد سے آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ خاندان گزشتہ کئی برسوں سے کمیشن، حکومت اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم مختلف اداروں سے رجوع کرتا آ رہا ہے، مگر انہیں ملکی قوانین کے مطابق انصاف نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طویل انتظار نے پورے خاندان کو شدید کرب اور ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسد اللہ بلوچ کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین برسوں سے اپنے پیاروں کی جدائی اور بے یقینی کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اسد اللہ بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم کرے اور انہیں اس طویل اذیت سے نجات دلائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article