استاد اور سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگی بلوچ نسل کشی کا حصہ ہے، بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے کابینہ ممبر فضل بلوچ کی جبری گمشدگی اور غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ رات فضل بلوچ کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ فضل بلوچ ایک تعلیم یافتہ، پرامن اور سیاسی کارکن ہیں جو بلوچ نوجوانوں میں علم و شعور کے فروغ کے لیے کام کر رہے تھے۔ ایک استاد ہونے کے ناطے وہ ہمیشہ طلبہ کو تعلیم اور قومی شعور کی تلقین کرتے رہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی کارکن کی اس طرح جبری گمشدگی قابل قبول نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچ سیاسی کارکنان، طلبہ اور اساتذہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کو تعلیم اور شعور سے محروم رکھنے کی منظم سازش کا حصہ ہیں۔ بی ایس او سمجھتی ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی و فکری تربیت سے ائین شکن خوفزدہ ہے اسی لیے وہ پرامن تنظیموں کے رہنماؤں کو حراساں کر رہی ہے۔

بی ایس او مطالبہ کرتا ہے کہ فضل بلوچ سمیت تمام لاپتہ سیاسی کارکنان کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو اسے قانونی طریقے سے ثابت کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کا یہ غیر انسانی عمل فوری طور پر بند کیا جائے۔

مرکزی ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی ایس او کسی بھی سیاسی تنظیم کے کارکن کی جبری گمشدگی کو اپنی تنظیم کا مسئلہ سمجھتی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبر، بربریت اور خاموشی سے بلوچ نوجوانوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان میں امن، تعلیم اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article