آئی ایس پی آر کا بیلہ،زیارت اور ہنہ اوڑک میں 38 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے علاقوں بیلہ،زیارت اور ہنہ اوڑک میںتین بڑے مسلح حملوں میں 38 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں پیش آئے مسلح کارروائیوں کے تین بڑے واقعات میں 27 پولیس اور 11 فوجی اہلکاروں سمیت 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران کی گئی جوابی کارروائیوں میں 54 مسلح افراد بھی مارے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ فوج پر حالیہ حملوں کے بعد کئی جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیںجنہیں دوران حراست ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اِن واقعات میں 27 پولیس اہلکاروں، 11 فوجی اہلکاروں اور چار سویلین کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے مسلح حملوں کے جن تین بڑے واقعات کا ذکر کیا ان میں زیارت میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ان کے بقول مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے دعویٰ کیاکہ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد نے عام شہریوں پر حملہ کیا، جس پر مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت ردعمل دیا، جس کے بعد یہ حملہ آور وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور ہوئے تاہم اس کارروائی کے دوران 4 شہری ہلاک ہوئے جبکہ چھ زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا واقعہ چھ جولائی (پیر) کو پیش آیا جب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زیارت میں واقع ایک پمپنگ سٹیشن کے قریب بلوچستان پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

اُن کے مطابق اس چیک پوسٹ پر موجود فورس پانی کی پائپ لائن اور پمپنگ سٹیشن کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے تاکہ کوئٹہ کے عوام اس ڈیم سے بلارکاوٹ پانی مل سکے۔

اُن کے مطابق مسلح افراد نے مختلف اطراف سے اِس پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کا جواب دیا گیا اور اس کارروائی میں 15 حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان پولیس کے 9 اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کی اطلاع ملتے ہی آرمی اور ایف سی کی ٹیموں کو زیارت روانہ کیا گیا مگر اُن کے پہنچنے سے قبل ہی مسلح افراد چیک پوسٹ پر تعینات دیگر 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔

انھوں نے کہا کہ اس چیک پوسٹ پر تعینات تمام پولیس اہلکار مقامی افراد تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیاکہ آرمی اور ایف سی کی ٹیموں نے مسلح افراد کا تعاقب کیا اور اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یرغمالی پولیس اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے مسلح افراد کے خلاف فضائی ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق ’جب انھیں (عسکریت پسندوں) پتا چلا کہ گھیرا تنگ ہو چکا تو انھوں نے 18 یرغمالی پولیس اہلکاروں کو بدھ (آٹھ جولائی) کے روز ہلاک کر دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ زیارت پولیس چیک پوسٹ واقعے میں مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 26 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا واقعہ بدھ (آٹھ جولائی) کو پیش آیا جب بیلا میں آرمی کانوائے پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار، بشمول ایک جے سی او، ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خاران اور دالبندین میں دو کارروائیوں کے دوران بالترتیب چھ اور آٹھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر ان تین بڑے واقعات میں 42 افراد بشمول چار سویلین، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ 54 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں کے ساتھ انگیجمنٹس جاری ہیں اور فوج، ایف سی اور پولیس ان شدت پسندوں کا تعاقب کر رہی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب انڈیا اور وہ تمام دشمن قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کا استحکام اور خوشحالی پسند نہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آپریشنز کے دوران مارے جانے والے عسکریت پسندوں میں سے زیادہ تر افغانستان کے شہری ہیں اور یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article