امریکہ نے ایران پر نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب کہا جا رہا ہے۔
منگل کے روز سینٹ کام نے کہا کہ اس نے یہ کارروائی اس لیے شروع کی ہے ’تاکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ افراد کے عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملے کرنے کی بھاری قیمت عائد کی جا سکے۔‘
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے نئے سلسلے میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل نظام اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
بیان میں سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ سے ہونے والی تجارت پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن میں مارشل آئی لینڈز کا پرچم بردار ایم/ٹی الرقایات، سعودی عرب کا پرچم بردار ایم/ٹی ودیان اور لائبیریا کا پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیرٹی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فورسز کی یہ بلا اشتعال جارحیت جنگ بندی کی واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور یہ بحری نقل و حرکت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
سینٹ کام نے کہا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی یا اس پر عمل در آمد میں ناکامی ہوئی تو امریکی فورسز ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔