کیا شعور کو ریاضیات سے جمع و تفریق کیا جا سکتا ہے؟
کیا شعور کے بھی اعداد و شمار ہوتے ہیں؟
جنگ میں فریق اپنے جنگی وسائل کا حساب رکھ سکتے ہیں۔ وہ افرادی قوت گن سکتے ہیں؛ کتنے افراد مارے گئے، کتنے باقی ہیں۔ وہ مرنے والوں کی تعداد، تباہ ہونے والی گاڑیوں، منہدم ہوتی عمارتوں اور ختم ہوتے وسائل کا حساب لگا سکتے ہیں۔
مگر…کیا شعور کو بھی کیلکولیٹر میں جمع و تفریق کیا جا سکتا ہے؟
میرے نزدیک جنگ صرف تعداد کا نام نہیں، نہ صرف وسائل کی مقدار کا، نہ گرتی ہوئی دیواروں کا۔ جنگ کا اصل مدار شعور کے گرد گھومتا ہے۔ جب تک شعور اس کا مرکز رہتا ہے، جنگ محض اعداد کا کھیل نہیں بنتی۔ لیکن جب جنگ اپنے اس مدار سے نکل جائے، تو پھر وہ صرف جمع، تفریق اور شماریات کی ایک مشق بن کر رہ جاتی ہے۔
آپ سن رہے ہیں، دیکھ رہے ہیں کہ کچھ عرصے سے صرف اعداد و شمار دہرائے جا رہے ہیں۔ کبھی ہزار، کبھی پندرہ سو، کبھی اس سے کم، کبھی اس سے زیادہ۔ گویا جنگ کو صرف نمبروں میں سمیٹ دیا گیا ہو۔
جب کوئی جنگی فریق اپنی حکمتِ عملی کے بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف جمع و تفریق پر اتر آئے، تو ہر صاحبِ شعور سمجھ جاتا ہے کہ اس کی جنگ اپنے اصل مدار سے ہٹ چکی ہے۔
وہ اب بھی میدان کی طرف بڑھتے طوفان کو نہیں دیکھتا۔ اس کی نگاہیں صرف اپنی انگلیوں پر چلتی جمع و تفریق میں الجھی رہتی ہیں، جبکہ جنگ اپنے بدلتے ہوئے رخ کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
جس لمحے جنگ کا مدار شعور سے نکل کر صرف شماریات کے گرد گھومنے لگے، اسی لمحے اس کی سمت بھی بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔
اور سب سے بڑی تباہی، بلکہ سب سے ذلت آمیز شکست، وہ ہوتی ہے جب کوئی فریق صرف شماریات پر گزارہ کرنے لگے۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ وہ جمع و تفریق میں گم ہو جائے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اسی جمع و تفریق کو اپنی بصیرت اور اپنی قوت کا ثبوت سمجھنے لگے۔ جب حساب کتاب حقیقت کی جگہ لے لے، تو گمراہی محض ایک غلطی نہیں رہتی، بلکہ ایک طرزِ فکر بن جاتی ہے۔
اصل ذلت اسی میں ہے کہ انسان اعداد گنتا رہے، مگر حقیقت اس کی انگلیوں کے درمیان سے پھسلتی رہے؛ وہ قوم کو نمبروں میں الجھائے رکھے، جبکہ حقیقت ان نمبروں سے کہیں آگے جا چکی ہو۔
اسے سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جنگ صرف تعداد کی نہیں ہوتی۔ وہ یہ بھی سمجھ چکا ہوتا ہے کہ تاریخ کو ریاضی کے کسی فارمولے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر بھی وہ ہر نئے دن کو صرف اعداد کی زبان میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔
حالانکہ تاریخ دو جمع دو کا حساب نہیں، بلکہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہے۔
وہ کتاب مٹی سے لکھی جاتی ہے۔ اس کے ہر صفحے میں اس مٹی کے بے شمار ذرات شامل ہوتے ہیں۔ ان ذرات کو خون سے گوندھا جاتا ہے، اور وہ خون ایک ایسے شعور سے نکلتا ہے جو ہزاروں برس کے ارتقا، تجربے اور اجتماعی حافظے میں تشکیل پاتا ہے۔
اصل میں یہی شعور دوسرا فریق ہوتا ہے۔
جب تک جنگ اس شعور کے مدار میں گردش کرتی ہے، اسے صرف اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن جو فریق اس مدار سے نکل کر صرف ریاضیات، جمع و تفریق اور شماریات پر گزارہ کرنے لگے، وہ حقیقت کو گننے کی کوشش تو کرتا ہے، مگر سمجھ نہیں پاتا۔
اسی لیے میں پھر وہی سوال کرتا ہوں جس سے میں نے آغاز کیا تھا۔
کیا شعور کو ریاضیات سے جمع و تفریق کیا جا سکتا ہے؟