بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بی ایس اے سی) نصیر آباد زون نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے پبلک لائبریری ڈیرہ مراد جمالی (ٹیپل) کی شدید خستہ حالی اور وہاں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق لائبریری کو 2018 میں بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد خطے کے طلبہ کو تعلیمی ماحول فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں اسے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا، جس کی غفلت کے باعث لائبریری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
چوکیدار اور چپراسی جیسے بنیادی ملازمین نہ ہونے کی وجہ سے لائبریری سے کتب اور دیگر قیمتی اشیاء چوری ہو رہی ہیں۔
نصیر آباد جیسے گرم ترین علاقے میں اے سی، بجلی اور سولر سسٹم نہ ہونے سے لائبریری میں بیٹھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ نئی کتب، وائی فائی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی نے لائبریری کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
طلبہ نے ضلعی اور لائبریری انتظامیہ کو بارہا ان مسائل سے آگاہ کیا، مگر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ لائبریری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اگر انتظامیہ نے عدم توجہی کا سلسلہ برقرار رکھا تو تنظیم طلبہ کی تعلیمی حقوق کی جدوجہد اور لائبریری مہم کے تحت سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔