دبئی سے اسرائیل جانے والی طیارہ گرانے کی کوشش ناکام ،انڈین کپتان ہیرو قرار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

30 ستمبر 2026 کو دبئی سے اسرائیل کے شہرتل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز (FZ1073) میں فضا کے دوران ایک ہولناک واقعہ پیش آیا، جہاں کو-پائلٹ نے پرواز کے دوران کپتان پر چاقو سے حملہ کر کے طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش کی۔ تاہم زخمی ہونے کے باوجود انڈین کپتان سمت مچھر کی حاضر دماغی اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے 174 افراد کی جانیں بچ گئیں اور طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

کو-پائلٹ کی اب تکل شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم کہا جارہا ہے اس کا تعلق عمان سے ہے ۔

فلائٹ ریڈار کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں طیارے نے ہائی جیکنگ اور ہنگامی صورتحال کے سگنل (7500 اور 7700) بھیجے۔ طیارہ صرف دو منٹ میں 17 ہزار فٹ نیچے آیا۔ معلوم ہوا کہ کاک پٹ کے اندر کو-پائلٹ نے کپتان سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کر دیا تھا اور انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔

شدید زخمی اور خون میں لت پت ہونے کے باوجود کپتان سمت مچھر نے بے ہوش ہونے سے پہلے کاک پٹ کا ان لاک سوئچ دبا کر دروازہ کھول دیا اور مدد کے لیے پکارا۔ دروازہ کھلتے ہی طیارے میں موجود مسافر اور عملہ اندر داخل ہوئے اور مبینہ حملہ آور کو گردن سے دبوچ کر قابو میں کر لیا۔ طیارے میں موجود دیگر دو ‘ریلیف پائلٹس’ نے فوراً کنٹرول سنبھالا اور جہاز کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر اتارا۔

واقعہ کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کپتان سمت مچھر کی شدید مزاحمت اور کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ‘ہیرو’ قرار دیا اور کہا کہ ان کی حاضر دماغی نے 174 افراد کو بڑے سانحے سے بچا لیا۔

انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کپتان سمت نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور پورے بھارت کو ان پر فخر ہے۔

اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بھی انڈین پائلٹ کو ہیرو قرار دیا اور واقعے کو طیارہ تباہ کرنے کی ناکام کوشش کہا۔

سمت مچھر ایک تجربہ کار پائلٹ اور ٹریننگ کپتان ہیں جو سپائس جیٹ میں بھی ایک دہائی تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں تبوک کے ایک مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت اب مستحکم بتائی جاتی ہے۔

اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو ‘جہادی دہشت گردی کی ناکام کوشش’ قرار دیا ہے، تاہم فلائی دبئی اور دیگر تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات اور محرکات کا تعین باضابطہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article