چیئرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے قبضے کے بعد سے اس خطے کو سیاسی اور فوجی جارحیت کی ایک طویل مہم کا نشانہ بنایا ہے۔
- اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں سیشن (UNHRC 62) کے ایک ذیلی پروگرام میں بی این ایم کے چیئرمین کی مکمل تقریر کا اردو ترجمہ :
معزز صدرِ مجلس، معزز مہمانوں، ساتھیو اور دوستو،
جبرًا تبدیلیِ مذہب اور اقلیتی خواتین کے موضوع پر منعقدہ اس اہم ذیلی پروگرام میں مجھے اظہارِ خیال کا موقع دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔
یہ صرف مذہب کے بارے میں بحث نہیں ہے۔ یہ طاقت کے بارے میں بحث ہے۔ یہ ایک عورت کے جسم کو میدانِ جنگ بنانے کے بارے میں ہے۔ یہ ایک کمسن لڑکی کو اس کے گھر، اس کے خاندان، اس کی زبان، اس کے عقیدے اور اس کے مستقبل سے محروم کرنے کے بارے میں ہے — اور پھر اسے یہ کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ ’’ میں نے اس کا انتخاب خود کیا ہے۔‘‘
مجھے اس ہال میں بیٹھے لوگوں سے ایک سادہ سا سوال پوچھنے دیں۔
- کیا اس وقت کوئی مذہبی آزادی ہو سکتی ہے جب کوئی بچہ خوفزدہ ہو؟
- کیا اس وقت کوئی رضامندی ہو سکتی ہے جب کوئی لڑکی دباؤ میں ہو؟
- کیا اس وقت کوئی انصاف ہو سکتا ہے جب ریاست طاقتور کا تحفظ کرے اور مظلوم کو تنہا چھوڑ دے؟
جبری تبدیلیِ مذہب کوئی نجی معاملہ نہیں ہے۔ یہ کوئی خاندانی تنازع نہیں ہے۔ یہ عقیدے کی محض ایک تبدیلی نہیں ہے۔ یہ شناخت، وقار، ضمیر کی آزادی، خاندانی زندگی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اور جب یہ اقلیتی خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے تو یہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ متاثرہ فرد کو نہ صرف ایک عورت کے طور پر، بلکہ ایک کمزور برادری کے رکن کے طور پر بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پورے پاکستان میں ہندو اور مسیحی لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے، ان کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے اور ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ ان کے خاندان اکثر اتنے غریب، خوفزدہ یا بے بس ہوتے ہیں کہ وہ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ جب وہ پولیس کے پاس جاتے ہیں تو انھیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب وہ عدالت جاتے ہیں تو ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ جب وہ آواز اٹھاتے ہیں تو انھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ہم نے یہ طریقہ کار بار بار دیکھا ہے۔
سندھ میں، ہندو لڑکیوں کو تبدیلیِ مذہب اور شادی کے نام پر لے جایا جاتا ہے۔ پنجاب میں، مسیحی برادریوں کو ہجوم کے تشدد، گرجا گھروں پر حملوں اور گھروں کو جلائے جانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2009 میں گوجرہ، 2013 میں جوزف کالونی اور 2023 میں جڑانوالہ کے واقعات اکا دکا واقعات نہیں ہیں۔ یہ مذہبی منافرت، ریاستی ناکامی اور سزا سے استثنیٰ کے ایک وسیع تر کلچر کا حصہ ہیں۔
لیکن آج میں اس بحث میں ایک اور آواز بھی شامل کرنا چاہتا ہوں — بلوچ خواتین کی آواز۔
بلوچ خواتین کو ظلم کی ایک مختلف لیکن منسلک شکل کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں خواتین نہ صرف صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے تکالیف اٹھا رہی ہیں، بلکہ وہ قبضے، عسکریت پسندی، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور معاشرے پر ریاستی تسلط کی وجہ سے بھی مصائب جھیل رہی ہیں۔
بلوچ عوام کے لیے یہ محض انسانی حقوق کا بحران نہیں ہے۔ یہ ایک قومی سوال ہے۔
بلوچستان کی اپنی تاریخ، اپنی سرزمین، اپنی سیاسی شناخت اور اپنی سماجی اقدار تھیں۔ لیکن پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کر لیا، اور اس کے بعد سے بلوچ قوم کو سیاسی، ثقافتی اور فوجی جبر کی ایک طویل مہم کا سامنا ہے۔
آج بلوچ خواتین اپنے گھروں میں، اپنے خاندانوں میں اور اپنے جسموں پر اس قبضے کے درد کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
جب کسی بلوچ مرد کو زبردستی لاپتہ کر دیا جاتا ہے، تو کون برسوں تک اس کی تصویر ہاتھ میں لیے پریس کلب کے باہر کھڑا رہتا ہے؟
- اس کی ماں۔
- اس کی بہن۔
- اس کی بیوی۔
- اس کی بیٹی۔
جب ریاست کسی سیاسی کارکن کو خاموش کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے کسے دھمکایا جاتا ہے؟
اس کے خاندان کو۔
جب ریاست کسی تحریک کو توڑنا چاہتی ہے، تو کسے کیمروں کے سامنے آنے اور اپنے ہی پیاروں کے خلاف بولنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟
ایک عورت کو۔
یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ یہ قانونی نہیں ہے۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ یہ اجتماعی سزا ہے۔
صرف دو ہفتے پہلے، میری اپنی بہن کو میرے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اسے دباؤ میں کیمروں کے سامنے بولنے پر مجبور کیا گیا، اس لیے نہیں کہ وہ ان الفاظ پر یقین رکھتی تھی، بلکہ اس لیے کہ ریاست اسے میرے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔
یہ ظلم کی بدترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف سیاسی کارکن کو نشانہ نہیں بناتا۔ یہ ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور پورے خاندان کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ محبت کو خوف میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ خاندانی رشتوں کو سیاسی ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہمیں بالکل واضح ہونا چاہیے: جب کوئی ریاست کسی بہن کو اپنے بھائی کے خلاف بولنے پر مجبور کرنے کے لیے خوف کا استعمال کرتی ہے، تو وہ رضامندی نہیں ہوتی۔ وہ جبر (زبردستی) ہوتا ہے۔
یہ وہی منطق ہے جو جبری تبدیلیِ مذہب کی اجازت دیتی ہے۔ یہ وہی منطق ہے جو جبری بیانات، جبری خاموشی، جبری وفاداری اور جبری اطاعت کی اجازت دیتی ہے۔ یہ آزادی پر طاقت کی بالادستی کی منطق ہے۔ یہ کہتی ہے کہ: کمزوروں کو اطاعت کرنی چاہیے، خواتین کو سر تسلیم خم کرنا چاہیے، اقلیتوں کو خاموش رہنا چاہیے، اور مظلوم قوموں کو اپنی حالت کو قبول کر لینا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ اقلیتی خواتین کی جدوجہد اور بلوچ خواتین کی جدوجہد آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔
- ایک پر مذہب کے نام پر حملہ کیا جاتا ہے۔
- ایک پر قومی سلامتی کے نام پر حملہ کیا جاتا ہے۔
- لیکن دونوں کو آزادی سے محروم کیا جاتا ہے۔
- دونوں کو وقار سے محروم کیا جاتا ہے۔
- دونوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔
ہم نے یہ ایک بار پھر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کو سنائی جانے والی عمر قید کی ہولناک سزا میں دیکھا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کوئی مجرم نہیں ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی علمبردار ہیں۔ وہ ان ہزاروں خاندانوں کی آواز بنیں جن کے پیارے زبردستی لاپتہ کر دیے گئے۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انھوں نے سب سے بنیادی سوال پوچھا: ہمارے لوگ کہاں ہیں؟
اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ریاست نے انھیں سزا دی۔ جبری گمشدگیوں کو ختم کرنے کے بجائے، اس نے ان لوگوں کو سزا سنائی جو ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ فیصلہ انصاف نہیں ہے۔ یہ اس عورت کو خاموش کرنے کی کوشش ہے جس نے اپنا سر جھکانے سے انکار کر دیا۔
لیکن تاریخ ہمیں ایک بات سکھاتی ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسی خاتون کو قید کرنے سے تحریک ختم نہیں ہوتی۔ یہ ظالم کے خوف کو بے نقاب کرتا ہے۔
بلوچ معاشرے میں ہماری ایک بالکل مختلف روایت ہے۔ تاریخی طور پر، بلوچستان ایک ایسی سرزمین رہا ہے جہاں ہندو اور سکھ برادریاں معاشرے کے معزز ارکان کے طور پر رہتی تھیں۔ انھیں اجنبی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ ہمارے پڑوسی، ہمارے تاجر، ہمارے دوست اور ہماری سماجی زندگی کا حصہ تھے۔
تقسیم کے تشدد کے دوران، جب مذہبی منافرت نے جنوب ایشیا میں اتنی جانیں تباہ کر دیں، بلوچستان بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد سے محفوظ رہا۔ ایسا اس لیے نہیں تھا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ ہمارا معاشرہ احترام، مہمان نوازی اور بقائے باہمی پر قائم تھا۔
بلوچ ثقافت میں اپنے پڑوسی کے عقیدے، عزت اور وقار کا تحفظ کرنا کمزوری نہیں ہے۔ یہ ایک اخلاقی فرض ہے۔
یہ ایک معاشرے اور ریاست کے درمیان فرق ہے۔
وقار پر قائم معاشرہ اختلافات کا تحفظ کرتا ہے۔
خوف پر قائم ریاست اختلاف کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
پاکستان مذہبی سیاست کے ذریعے وجود میں آیا، اور وقت کے ساتھ ساتھ مذہب ریاستی طاقت کا ایک آلہ بن گیا۔ جب وفاداری کی تعریف کے لیے عقیدے کو استعمال کیا جائے، تو ہر وہ شخص جو مختلف ہو، مشکوک بن جاتا ہے۔ مذہبی اقلیتیں نشانہ بن جاتی ہیں۔ خواتین کو قابو میں کیا جاتا ہے۔ بلوچ جیسی اقوام کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جبری تبدیلیِ مذہب صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک ساختیاتی (structural) مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسے نظام میں جڑا ہوا ہے جہاں مذہب، پدرسری (patriarchy) اور ریاستی طاقت کمزور برادریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔
خواتین و حضرات،
ہم طاقت کے بارے میں بات کیے بغیر جبری تبدیلیِ مذہب پر بات نہیں کر سکتے۔
ہم ریاست کے بارے میں بات کیے بغیر اقلیتی خواتین پر بات نہیں کر سکتے۔
اور ہم قبضے کے بارے میں بات کیے بغیر بلوچ خواتین پر بات نہیں کر سکتے۔
عالمی برادری کو ان مظالم کوجداگانہ واقعات کے طور پر دیکھنا بند کرنا چاہیے۔ سندھ میں اغوا ہونے والی لڑکی، پنجاب میں جلایا جانے والا مسیحی گھر، اپنے لاپتہ بیٹے کو تلاش کرتی ہوئی بلوچ ماں، اپنے بھائی کے خلاف بولنے پر مجبور کی جانے والی بہن، اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا — یہ سب ایک گہرے بحران کی نشانیاں ہیں۔
یہ ایک ایسی ریاست کو ظاہر کرتے ہیں جو کمزوروں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے اور، بہت سے معاملات میں، ان کے خلاف ہونے والے تشدد کا حصہ بن چکی ہے۔
چنانچہ آج، اقوام متحدہ کے اس پلیٹ فارم سے، ہم واضح اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں:
- ہم جبری تبدیلیِ مذہب اور زبردستی کی شادیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- ہم اقلیتی خواتین اور لڑکیوں کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- ہم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تمام بلوچ سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- ہم بلوچ خواتین اور خاندانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- ہم جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا، فوجی آپریشنز اور خاندانوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- ہم اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ خواتین کو نہ صرف مظلوم کے طور پر، بلکہ مزاحمت، سچائی اور وقار کی رہنماؤں کے طور پر سنیں۔
کیونکہ بلوچ خواتین خاموش نہیں ہیں۔
وہ عدالتوں کے باہر کھڑی ہیں۔
وہ سڑکوں پر مارچ کر رہی ہیں۔
وہ بین الاقوامی فورمز پر بول رہی ہیں۔
وہ لاپتہ افراد کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں۔
وہ جرات کے ساتھ خوف کو چیلنج کر رہی ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ ریاست ان سے ڈرتی ہے۔
یہ اس ماں سے ڈرتی ہے جو بھولنے سے انکار کرتی ہے۔
یہ اس بہن سے ڈرتی ہے جو جھوٹ بولنے سے انکار کرتی ہے۔
یہ اس بیٹی سے ڈرتی ہے جو پوچھتی ہے، "میرا باپ کہاں ہے؟”
یہ اس عورت سے ڈرتی ہے جو کھڑی ہوتی ہے اور کہتی ہے، ’’ میں نہیں ٹوٹوں گی۔‘‘
میرا آخری پیغام سادہ ہے۔
ایک آزاد معاشرہ کسی لڑکی کو اس کا عقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور کر کے نہیں بنایا جا سکتا۔
ایک پرامن ریاست نوجوانوں کو لاپتہ کر کے نہیں بنائی جا سکتی۔
ایک منصفانہ نظام خواتین کو دھمکا کر خاموش کر کے نہیں بنایا جا سکتا۔
اور وقار وہاں قائم نہیں رہ سکتا جہاں خوف کو قانون کے طور پر استعمال کیا جائے۔
بلوچ قوم ایک ایسے مستقبل پر یقین رکھتی ہے جہاں ہر شخص کا احترام اس کی انسانیت کی بنیاد پر کیا جائے، نہ کہ اس کے مذہب، صنف، زبان یا قومی شناخت سے اس کا فیصلہ کیا جائے۔
ہم ایک ایسے بلوچستان پر یقین رکھتے ہیں جہاں خواتین آزاد ہوں، اقلیتیں محفوظ ہوں، عقیدہ ذاتی ہو، اور قانون سب کو یکساں تحفظ فراہم کرے۔
یہ وہ بلوچستان ہے جس کے لیے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ وہ پیغام ہے جو آج ہم دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔
شکریہ۔