بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں دشت اور ہوشاپ میں پاکستان فوج کے کیمپوں اور مورچوں پر حملے، 1 فوجی اہلکارکی ہلاکت اور نگرانی کے کیمرے سمیت فوجی گاڑی اور املاک کو ناکارہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 28 جون 2026 کو دشت کے علاقے مچات میں، مین روڈ پر قابض پاکستانی فوج کو ایک حملے میں بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ سرمچاروں نے اس مقام پر فوج کی جانب سے نصب کردہ نگرانی کے تمام کیمرے بھی اکھاڑ دیے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل، 27 جون 2026 کو دشت ہی کے علاقے پِٹوک میں، چِنال کے مقام پر بی ایل ایف کے سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک مورچے پر حملہ کر کے وہاں مورچہ زن ایک فوجی اہلکار کو موقع پر ہلاک کر دیا اور مورچے میں موجود دیگر اہلکاروں کو راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مزید دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مورچے کے قریب کھڑی ایک فوجی گاڑی کو بھی فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسی روز 27 جون ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دشت کے علاقے بَل نِگوْر میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر راکٹ لانچرز اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، اس حملے میں بھی قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
علاوہ ازیں، 27 جون ہی کو ہوشاپ کے علاقے دمب میں بھی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے فوجی کیمپ پر متعدد گولے داغے جو اپنے اہداف پر جا گرے، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشت اور ہوشاپ میں قابض پاکستانی فوج پر ہونے والے ان حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کو ہلاک و متعدد کو زخمی کرنے، نگرانی کے کیمرے اور فوجی گاڑی و املاک ناکارہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔