صحافی تنویر، سفیرکی گرفتاری کے خلاف جموں کشمیرنیشنل عوامی کے زیراہتمام قوم پرستوں کا احتجاجی مظاہرہ ریلی نکالا گیا۔
راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرین نے شہر کاچکرلگانے کے بعد مقبول بٹ شہید چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،
مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ رہاکرو ، رہاکرو تنویراحمد اورسفیرکورہا کرو,ظلم وستم ھائے ھائے,اسیران کوغیرمشروط رہاکرو کے نعرے لگا گئے,احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے مقررین نے کہاکہ سینئرصحافی راجہ تنویراحمداورسفیرکشمیری پرتشدداورگرفتاری قابل مذمت ھے,ڈڈیال انتظامیہ نے کس کے اشارے پر محب وطن اورآزادی پسندوں کوگرفتارکیا ھے حکومت فوری نوٹس لے۔
,انہوں نے کہاکہ ہماری خاموشی کوکمزوری نہ سمجھاجائے ہم اپنی ریاست اورریاستی اداروں کی حفاظت کرناجانتے ہیں,ڈڈیال انتظامیہ کی نااہلی کی جتنی مذمت کی جائے کم ھے انکواپنے آقاؤں کوخوش کرنے کی مکروہ حرکت کی قیمت اداکرنی پڑے گی,حکومت ڈڈیال کی نااہل انتظامیہ جنھوں نے صحافی راجہ تنویراحمداورسفیرکشمیری کوگرفتار کیا اورتشددکانشانہ بنایا,ان اہلکاران کوفوری طورپر معطل کرے,ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہیگا جب تک اسیران حق کو غیر مشروط رہانہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ پاکستانی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں میں اس عمل کے خلاف سخت ردعے عمل سامنے آیا ہے،
نوجوانوں کے ایک گروپ نے بیورو چیف سنگر سے راولاکوٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر سے قابض کے جھنڈوں کو اْتارنے کی مہم شروع ہونی چائیے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے اپنا الگ تشخص رکھتی ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے تنازعے کا ریاستی عوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ ہونے تک پاکستان کی ریاست میں موجودگی کی حثیت قابض ملک سے زیادہ نہیں ہے۔ ایک متنازعہ ریاست میں اپنے اپنے جھنڈے لگانا اپنے قبضے کو مضبوط کرنا ہے جو کہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے قومی تشخص اور اْسکی قومی وحدت پر کوء بھی ذی شعور سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
چند روز قبل قابض پاکستان کا جھنڈا اْتارنے کی پاداش میں معروف صحافی و محقق تنویر احمد کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کرلیا گیا۔ اس تشدد و گرفتاری کی ہر مکتبہ فکر کے انسان نے بھرپور مزمت کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی تقسیم در تقسیمی کے خلاف ہر طرح کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے پوری ریاست سے قابض کے جھنڈے اْتارنے کی مہم شْروع کی جائی۔
واضح رہے کہ پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں آزادی کی نئی لہر میں جوش و جذبہ دیکھنے میں آ رہا ہے،اور عوام اپنی شناخت،تشخص اور قومی پہچان کے لیے شعوری جو جہد کر رہے ہیں۔