پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 25 اور 26 جون کو بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران 8 مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقارِ عامی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق 25 جون خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ’کارروائی کے نتیجے میں انڈین حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 3 مسلح افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے 26 جون کو ضلع مستونگ میں ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاعات پر پیشگی بنیاد پر انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خودکش بمبار سمیت 5 عسکریت پسند ہلاک کر دیا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے زیرِ استعمال اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید کسی بھی مسلح افراد کی موجودگی کا امکان ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی آئی ایس پی آر اور سی ٹی ڈی ایسے متعدد دعوے کرچکے ہیں لیکن جس میں ہلاک کئے متعدد افراد کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی تھیں جو بعد ازاں ثابت ہوئیں کہ انہیں ماورائے عدالت جعلی کارروائیوں میں قتل کیا گیا تھا۔