مظفرآباد /سنگر نیوز مانیٹرنگ ڈیسک
پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔ خطے میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال 18 ویں روز بھی جاری ہے ، جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کو آج 21 دن مکمل ہو گئے ہیں۔
ایک طرف عوامی ایکشن کمیٹی نے 8 محرم الحرام کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، تو دوسری طرف حکومت نے تحریک کے مرکزی رہنماؤں پر دہشت گردی کے مقدمات درج کر کے صحافیوں اور ایکٹوسٹس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
مسلسل 18 روز سے جاری شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے باعث پورے خطے میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ مختلف شہروں اور قصبوں میں دکانیں، بازار اور تجارتی مراکز مکمل بند ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کی معطلی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع اور مقامی حلقوں کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عوام کے لیے خوراک کی ترسیل روک دی گئی ہے، جس کے باعث درجنوں کی تعداد میں اشیائے خورد و نوش کی گاڑیاں سامان سمیت کھڑی ہیں۔ دوسری جانب، 21 دنوں سے انٹرنیٹ کی بندش نے کاروبار، تعلیم اور روزمرہ کے سرکاری و نجی امور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
تجارتی حلقوں کے مطابق اس تعطل سے حکومت کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہے اور مقامی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ریاستی اقدامات کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں سمیت سیکڑوں افراد کے خلاف دہشت گردی، قتل اور اقدامِ قتل جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر (FIR) میں نامزد اہم رہنماؤں میں شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر کشمیری، سردار سجاد، ارباب ایڈووکیٹ، خواجہ مہران، امان کشمیری، عابد شاہین، مجتبیٰ، ببرک خان، عثمان کاشر، اور محسن عزیز شامل ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مقدمات کو بدترین "سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاریوں، چھاپوں، جائیدادوں کی ضبطگی اور نوکریوں سے برخاستگی کے باوجود تحریک جاری رہے گی۔ اس کے برعکس، سرکاری حکام کا مؤقف ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر سردار عمر نذیر کشمیری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن 8 محرم الحرام کو ختم ہو رہی ہے، لیکن مطالبات پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ "ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف کشمیری قوم کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جو لوگ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا عزم رکھتے ہیں، انہیں کوئی رکاوٹ مقصد سے نہیں ہٹا سکتی۔”
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رکھیں اور حقوق کی بحالی تک پرامن جدوجہد کا حصہ بنے رہیں۔
کریک ڈاؤن کے اس مرحلے پر اب صحافیوں اور ایکٹوسٹس کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
دارالحکومت مظفرآباد سے نوجوان صحافی وقاص کاظمی کو سیکیورٹی اہلکار گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔ تاحال سرکاری طور پر ان کی گرفتاری یا الزامات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ وقاص کاظمی گزشتہ کئی برسوں سے عوامی مسائل اور احتجاجی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔
اسی طرح مقامی صحافی سردار اویس گزشتہ تین روز سے لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ انہیں پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ اہل خانہ اور صحافتی تنظیموں نے ان کی فوری بازیابی اور قانونی حیثیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کریک ڈاؤن میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ خطے سے لگ بھگ 171 افراد کی جبری گمشدگی رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ 150 سے زائد افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈال دیے گئے ہیں۔ ان تمام ریاستی اقدامات، چھاپوں اور جائیدادوں کی سیلنگ کے باوجود کئی علاقوں میں احتجاجی دھرنے بدستور جاری ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔