کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین، کاروباری افراد اور شہریوں کے خلاف ریاستی انتقامی کارروائیوں پر تشویش

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان زیرِ قبضہ کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد، سماجی شخصیات، کاروباری طبقے اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ریاستی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے باعث علاقے میں خوف، بے چینی اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعد انصاری، شوکت نواز میر، امتیاز اسلم اور راجہ مجتبیٰ کے گھروں پر پاکستان کی سیکورٹی فورسزکی جانب سے چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران گھروں میں موجود خواتین، بزرگ والدین اور دیگر اہلِ خانہ کو ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ رات کے وقت گھروں پر ہونے والی ایسی کارروائیاں خاندانوں میں شدید نفسیاتی دباؤ اور عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہیں۔

اسی طرح اطلاعات ہیں کہ امجد اسلام امجد سے منسلک ایک اسکول کو سیل کر دیا گیا، جبکہ عابد شاہین، عثمان کاشر اور الیاس کشمیری کے کاروبار بھی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں سیل کیے گئے ہیں۔ مزید رپورٹس بھی سامنے آرہی ہیں کہ ہزاروں کاروباری مراکز پر سرکاری مہریں اور نوٹس آویزاں کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور متعدد خاندانوں کے معاشی ذرائع خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

مزید اطلاعات کے مطابق بیرون ملک میں موجود عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین کے اہلِ خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیاہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عاشق فردوسی، امتیاز حسین، انعام الحق نعیمی، کامران بیگ، محمد کاشف اور صابر حسین کے گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپے مارے گئے، جہاں ان کے بزرگ والدین اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد خوف کے باعث تفصیلات بیان کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو مبینہ فنڈنگ فراہم کیے جانے کے شبہے میں ہزاروں افراد کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ متاثرہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے عام شہریوں، کاروباری افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

علاقے میں انٹرنیٹ سروس کی بندش یا محدود دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مواصلاتی رکاوٹوں کے باعث متعدد واقعات کی بروقت اطلاع سامنے نہیں آ پا رہی، جس کے نتیجے میں زمینی حقائق اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مکمل تصویر ابھی واضح نہیں ہو سکی۔

متاثرہ حلقوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی کے بعد مزید واقعات، شواہد اور تفصیلات منظرِ عام پر آ سکتی ہیں، جس سے صورتحال کی اصل نوعیت کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے گا۔

ناقدین، شہری نمائندوں اور انسانی حقوق کے حامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان تمام اقدامات کے پیچھے کوئی قانونی بنیاد، عدالتی حکم یا انتظامی فیصلہ موجود ہے تو متعلقہ ادارے اس کی مکمل تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کریں۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد کو قانونی معاونت، جواب دینے کا حق اور اپیل کا مکمل موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article