ڈاکٹر ماہ رنگ و شاہ جی کی سزا کے خلاف متعدد جماعتوں کا بدھ کو بی وائی سی ہڑتال کی حمایت کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف ۲۴ جون ۲۰۲۶ء (بروز بدھ) کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

بلوچستان کی بڑی سیاسی و قوم پرست جماعتوں، پشتون اور وکلاء برادری نے ہڑتال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر کے خلاف عوامی ردِعمل قرار دیا ہے۔

بی این پی کے مرکزی بیان میں بوگس مقدمے میں عمر قید کی سزا سنانے، فیئر ٹرائل کا حق نہ دینے اور آئینی حقوق غصب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے بدھ کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد جمہوری دور میں سیاسی کارکنوں اور خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن اور ذہنی اذیتیں دے کر بلوچستان میں احساسِ محرومی کو بڑھایا جا رہا ہے، جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (PTI) بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرف سے اعلان کردہ اس شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں۔

عوامی نیشنل پارٹی (ANP) نے اپنے بیان میں بدھ کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل تائید کی ہے۔ پارٹی نے موقف اختیار کیا کہ جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آرز کے بعد سماعت کے لیے عدالت کو جیل منتقل کرنا اور فیس لیس ٹرائل کے ذریعے سرکاری وکیل سے یکطرفہ فیصلہ سنوانا انصاف کا قتل ہے۔ اے این پی نے پشتون و بلوچ عوام، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے ہڑتال کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے اور اسے عوام کا جمہوری حق قرار دیا ہے۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے بلوچستان صدر نصراللہ خان زیری نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو سزا سنانے کے خلاف دی گئی ہڑتال کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے کے مطابق، کل بروز بدھ ۲۴ جون ۲۰۲۶ء کو مکران ڈویژن بھر میں وکلاء برادری عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرے گی اور کسی بھی مقدمے میں پیش نہیں ہوگی۔

بار کے ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کے مقدمات میں منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی پاسداری نہیں کی گئی، ملزمان کے بیانات زیر دفعہ 342 ضابطۂ فوجداری ریکارڈ نہیں کیے گئے اور نہ ہی انہیں دفاعی گواہان پیش کرنے اور پسند کا وکیل کرنے کا موقع دیا گیا۔ سرکاری سطح پر وکیل مقرر کر کے کیا جانے والا فیصلہ آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔

ہڑتال کو کامیاب بنانے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کی عمر قید کی سزا کے خلاف عوامی آگاہی پیدا کرنے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زمینی سطح پر مہم تیز کر دی ہے۔

بی وائی سی شال زون کی جانب سے سریاب اور سریاب مل کالونی کے علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کرنے کی مہم چلائی گئی اور کارنر میٹنگز (عوامی اجتماعات) کا انعقاد کیا گیا، جہاں شہریوں سے انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی۔

تربت کے مختلف علاقوں بشمول کلاتک، اسٹار پلس، مین بازار، دشتی بازار، چاسر اور دانک میں پمفلٹ تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر وال چاکنگ (دیواری تحریریں) کی گئیں۔

مہم کے شرکاء نے کہا کہ عوامی راستے اور جگہیں عوام کی ملکیت ہیں اور وہ پرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article