افغان طالبان نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پاکستان نے ان دعوئوں کی تردید کی ہے۔
پاکستان نے افغان وزارتِ دفاع کے اِن دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے ’فضائی حملوں‘ میں شدت پسند تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ سلسلہ وار پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’جمعرات کی رات، اسلامی امارت افغانستان کی وزارت دفاع کی فضائیہ نے پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔‘
بیان کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ مبینہ طور پر ’بعض دشمن انٹیلی جنس حلقوں کی مدد سے افغانستان پر حملوں کی منصوبہ بندی اور مربوط کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے تھے اور اس سے قبل انھیں کئی مہلک حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے لیے آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔‘
افغان حکام نے جن علاقوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اُن میں بلوچستان میں قلعہ عبداللہ اور چاغی کے اضلاع میں متعدد مقامات کے علاوہ خیبر پختونخوا میں ضلع اورکزئی کے علاقے قمبرخیل میں داعش خراسان کی ایک تنصیب شامل ہے۔
افغان حکام کے یہ دعوے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک فیکٹ چیک رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں سے متعلق کیے گئے دعوؤں کو مسترد کیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکام مختلف سرکاری بیانات اور اپنے حامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ خراسان (داعش) کے کیمپوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں ان دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کا ایک سادہ نوعیت کا ڈرون خیبر کے علاقے شِنکو کے قریب پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے پاکستان فضائیہ کے ایئر ڈیفنس نظام نے فوری طور پر شناخت کر کے تباہ کر دیا۔ حکام نے اس ڈرون کی تصویر بھی جاری کی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ داعش سمیت دو درجن سے زائد شدت پسند تنظیموں کے کیمپ درحقیقت اُن علاقوں میں موجود ہیں جو افغان طالبان کے زیرِ اثر ہیں اور وہیں سے اُن کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔