بلوچستان بجٹ 2026-27 پیش: امن و امان کے لیے مجموعی طور پر107 ارب روپے مختص

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے بجٹ پیش کردیا گیا جس میں تعلیم کے بعد دوسرے نمبر پر امن وامان کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

بجٹ وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بدھ کی شام بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی محاصل کے علاوہ بلوچستان کے اپنے وسائل اور دیگر مدات سے مجموعی آمدن کا تخمینہ ایک ہزار 134 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ سات سو 97 ارب اور ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ڈھائی سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ بجٹ میں 45 ارب روپے کا بچت ظاہر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں پہلی ترجیح تعلیم کے شعبے کو دیتے ہوئے اس کے لیے مجموعی طور پر 197 ارب 28 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

اگرچہ تعلیم کا بجٹ سب سے زیادہ ہے تاہم اس کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہے۔

امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے شعبے کے لیے دوسرے نمبر پر سب زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے لئے 107 ارب 92 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

رقم مختص کرنے کے حوالے سے صحت کا شعبہ تیسرے نمر پر ہے جس کے لیے مجموعی طور پر 73 ارب 99 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

سماجی تحفظ کے شعبے کے لئے 15 ارب 13 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

ترقیاتی شعبے میں رواں مالی سال کے بجٹ کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پیداواری شعبوں کے مقابلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبے کے لیے زیادہ رقم رکھی گئی ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس شعبے کا ترقیاتی بجٹ 27ارب روپے ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں زراعت، کانکنی، ماہی گیری اور لائیو سٹاک اور صنعتوں کا شمار پیداواری شعبوں میں ہوتا ہے۔

بجٹ میں زراعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب 19کروڑ روپے، کان کنی کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 45 کروڑ روپے، محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 34 کروڑ 60 لاکھ روپے، صنعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب روپے 20کروڑ جبکہ لائیو سٹاک کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب روپے ہے۔

سینئر صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پیداواری شعبے بلوچستان میں لوگوں کے معاش اور روزگار کے فطری ذرائع ہیں۔

عرفان سعید کے مطابق بلوچستان میں روزگار کے مواقع کم ہونے سے پہلے ہی سرکاری شعبے پر ملازمتوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پیداواری شعبوں کی ترقی کے لیے زیادہ رقم مختص کی جائے تو یہ سرکاری شعبے پر روزگار کے لیے دبائوکو کم کرنے میں مدد دے گی۔

بجٹ میں سرکاری شعبے پانچ ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں وفاقی حکومت کے طرز پر سات فیصد اضافہ کیا گیا۔

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر سو فیصد صوبائی ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article