پاکستان میں اسیر معروف انسانی حقوق وکلا ایمان مزاری حاضر اور ہادی علی چٹھہ کو انسانی حقوق کے لیے خدمات اور قانونی جدوجہد پر دنیا کے معتبر ترین انسانی حقوق اعزازات میں شمار ہونے والا لودووِک ٹریو ایو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پرائز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں وکلاء اس وقت جیل کی سزائیں کاٹ رہے ہیں، تاہم انسانی حقوق کے لیے ان کی وکالت اور جدوجہد کے اعتراف میں انہیں یہ عالمی اعزاز دیا گیا۔
ایوارڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق لودووِک ٹریو ایو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پرائز دنیا کا قدیم ترین اور سب سے معتبر انسانی حقوق اعزاز سمجھا جاتا ہے، جو فرانسیسی وکیل لودووِک ٹریو ایو کے نام سے منسوب ہے، جنہوں نے 1898 میں انسانی و شہری حقوق کے دفاع کے لیے لیگ قائم کی تھی۔
اس اعزاز کا آغاز 1985 میں ہوا تھا اور اس کے پہلے وصول کنندہ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا تھے، جنہیں یہ ایوارڈ اس وقت دیا گیا جب وہ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے خلاف جدوجہد کے دوران قید تھے۔
ایوارڈ کے منتظمین کی جانب سے ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی خدمات، انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے لیے ان کے کردار کو سراہا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس ایوارڈ کے پہلے وصول کنندہ نیلسن منڈیلا تھے، جنہیں 1985 میں جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں قید کے دوران یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم فورینزک یونین فار دی پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (UFDU) کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ ایوارڈ ہر سال ایسے وکیل کو دیا جاتا ہے جس نے اپنی پیشہ ورانہ وابستگی کے ذریعے انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور ہر قسم کی عدم برداشت کے خاتمے کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔
بیان کے مطابق، ایوارڈ کی تقریب روم میں نیشنل بار کونسل کے پارلیمنٹینو ہال میں منعقد ہوئی، جس میں نیشنل بار کونسل کے یورپی و بین الاقوامی قانون کمیشن کے کوآرڈینیٹر انتونینو گالیٹی بھی موجود تھے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ہادی علی چٹھہ نے اپنے قانونی کیریئر کے دوران توہینِ مذہب کے مقدمات میں نامزد افراد، جنسی تشدد کے متاثرین، جبری گمشدگیوں کے شکار افراد اور سزائے موت کے قیدیوں کی وکالت کی ہے۔ دوسری جانب ایمان مزاری نے تشدد اور ظلم و ستم کا شکار افراد کو قانونی معاونت فراہم کرنے اور کمزور مذہبی و نسلی برادریوں کی حمایت کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ طویل عرصے سے بنیادی آزادیوں کے دفاع کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے صحافیوں، سماجی کارکنوں، جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کی قانونی نمائندگی کی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق، حالیہ برسوں میں یہ تمام کام ایسے ماحول میں انجام دیا گیا جہاں پاکستان میں وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا رہا، جس کی نشاندہی مختلف بین الاقوامی تنظیموں اور مبصرین نے بھی کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 2026 کے لوڈووک ٹراریو بین الاقوامی انسانی حقوق ایوارڈ کے ذریعے جیوری نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی پیشہ ورانہ اور ذاتی خدمات کو سراہا ہے، جنہوں نے قانون کی حکمرانی، بنیادی آزادیوں اور انصاف تک رسائی کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
ایمان مزاری کی والدہ شیرین مزاری نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس اعزاز کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسے ایک "بہت بڑا پیشہ ورانہ اعزاز” قرار دیا اور اپنی بیٹی کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے پر خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔