پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری حقیقی عوامی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کی سر قیمتیں ایک کروڑ لگانے کے بعد اب ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔
کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر منگل کے روز مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے جبکہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے نکلنے والی ریلیوں میں شامل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے علاوہ اہم اضلاع باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں منگل کے روز کاروباری مراکز، بینک اور پیٹرول پمپس بند رہے۔ اسمبلی اراکین مکمل طور پر اسلام آباد منتقل ہوگئے ۔
واضع رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس احتجاج کے پیش نظر کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے اضافی نفری کشمیر میں تعینات کی گئی ہے۔
منگل کی شام کشمیر کی حکومت نے گذشتہ ہفتے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا الزام کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے، جس کے بعد مظفر آباد کے سٹی تھانے میں شوکت نواز میر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مظفر آباد سٹی تھانے کے ایس ایچ او منظر چغتائی نے تصدیق کی ہے کہ شوکت نواز میر کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر اور مہران ارشد کو ‘اپنی تقاریر، تحریری مواد، ویڈیو و آڈیوز کے ذریعے بغاوت’ کا ارتکاب کیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’تعزیراتِ آزاد جموں کشمیر، 1860‘ کی دفعہ 124 اے کے تحت بغاوت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ’دستیاب ریکارڈ‘ کا جائزہ لیا ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت میرپور اور مظفرآباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پیز) کو ہدایت جاری کی ہیں کہ دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کرکے عدالت میں چالان پیش کیا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں حکومت کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ایک علیحدہ نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔
ان کے مطابق جو بھی شخص ان افراد کی موجودگی کے بارے میں اطلاع فراہم کرے گا، اسے حکومتی اعلان کے مطابق انعام دیا جائے گا۔