بلوچستان کے سول ہسپتال کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصرپر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے خلاف ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ہیلتھ سیکٹر سے وابستہ مختلف تنظیموں نے مشترکہ احتجاج کیا، او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور متاثرہ ڈاکٹر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی۔
ریلی کا انعقاد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کیچ، پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن، فارماسسٹ ایسوسی ایشن، نرسز ایسوسی ایشن، کلرک برادری اور دیگر ہیلتھ تنظیموں کی جانب سے کیا گیا۔
شرکاء نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ایڈمنسٹریشن بلاک سے ریلی نکالی اور ہاتھوں میں انصاف کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
مشترکہ بیان میں مقررین نے ڈاکٹر ماہ نور بلوچ پر تیزاب گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ واقعے میں ملوث ملزم کو انجام تک پہنچا دیا گیا ہے، تاہم اس واقعے کے پس پردہ حقائق سامنے لانے کے لیے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے تاکہ تمام محرکات اور عوامل کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور دیگر طبی عملے کو مؤثر اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہیلتھ سیکٹر کے تحفظ اور انصاف کے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو آئندہ مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
احتجاج کے دوران ضلع کیچ میں او پی ڈی سروسز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا، جبکہ ہیلتھ برادری نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا۔