بلوچستان کے سب سے بڑے طبی مرکز، سول ہسپتال کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر شدید زخمی ہوگئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا ہے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعہ کے بعد کوئٹہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے تحفظ میں ناکامی ناقابل قبول ہے ، واقعہ سیکورٹی فیلیئر ہے، 24 گھنٹوں میں ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو بلوچستان بھر میں طبی سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ خاتون ڈاکٹروں سمیت تمام طبی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے، ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے، ملزمان کی عدم گرفتاری پر غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی جائے گی۔ طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سول اسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر حملے کے خلاف ڈاکٹروں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے ۔
دوسری جانب پولیس ایس ایچ او سول لائنز جواد حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے میں مبینہ طور پر ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم سول اسپتال میں لفٹ آپریٹر تھا، جس کی شناخت ہمایوں شاہ، عظمت اللہ شاہ کے نام سے ہوئی جو موقع سے فرار ہوگیا تھا جبکہ متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہیں جنکی سرجری میں ٹریننگ چل رہی تھی، تیزاب پھینکنے سے ان کی چہرہ ، سینہ اور بازو شدید متاثر ہیں، ڈاکٹر کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی شفٹ کیا جارہا ہے۔