وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آج 6185ویں روز بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا، متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین و قانون اقدامات کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جن افراد پر کسی قسم کے الزامات ہیں، انہیں آئین اور قانون کے مطابق گرفتار کرکے 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجاز عدالت یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی و قومی اصولوں کے مطابق مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article