زہری میں فوجی بربریت ، مسلسل کرفیو اور معصوم شہریوں کا قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی )نے اپنے ایک بیان میں 2 جون 2026 کو ضلع خضدار کی تحصیل زہری کے علاقے ‘بلبل’ میں پاکستانی فوج کی جانب سے شروع ہونے والی بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی اور مکمل کرفیو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں جاری منظم نسل کشی کا تسلسل قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے زہری کے رہائشی علاقوں پر شدید شیلنگ کی، جبکہ بکتر بند گاڑیوں میں سوار بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکیورٹی فورسز نے قصبے میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی دن گزر جانے کے باوجود زہری میں سخت کرفیو نافذ ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل ہے، خاندان محصور ہو چکے ہیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی تک رسائی نہ ہونے کے باعث علاقے میں ایک سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ اس طویل ناکہ بندی کا مقصد مقامی آبادی کو ہراساں اور خوفزدہ کرنا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، کرفیو کے دوران ایک نوجوان سویلین عمیر سمالانی (ولد حاجی نصیر سمالانی) کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ اپنی بہن اور خاندان کے دیگر ارکان کے ساتھ خضدار کی طرف سفر کر رہا تھا۔

کارروائی کے دوران 10 سے 12 فوجی گاڑیوں نے معروف قبائلی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور سردار نصیر احمد، ان کے بیٹوں میر زہری خان موسیانی، میر خلیل احمد موسیانی اور دیگر رشتہ داروں کو حراست میں لے کر ایک مقامی اسکول میں منتقل کر دیا، جسے عارضی فوجی کیمپ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جب مقامی خواتین، قبائلی عمائدین اور شہریوں نے اسکول کے باہر پرامن احتجاج کیا، تو فورسز نے مزید مردوں کو حراست میں لے کر اندر بند کر دیا۔ اس شدید جبر کے باوجود، بلوچ خواتین اپنے پیاروں کی باحفاظت واپسی کے لیے اسکول کے باہر مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔

دورانِ حراست عسکری حکام نے معمر قبائلی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کو دھکا دیا جس سے وہ گر گئے اور ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ ان کے بیٹے میر زہری خان کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے بیٹے میر خلیل احمد موسیانی کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا اور براہِ راست گولیاں مار کر شدید زخمی کیا گیا۔ بعد ازاں، میر خلیل احمد موسیانی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا اور بعد میں ان کی موت کا اعلان کیا گیا، تاہم تاحال ان کی میت خاندان کے حوالے نہیں کی گئی اور نہ ہی مقام کا علم ہے۔

بیان میں زہری سے درج ذیل افراد کی جبری گمشدگی کی تصدیق کی گئی ہے:

میر زہری خان موسیانی (بیٹا سردار نصیر)، میر خلیل احمد موسیانی (بیٹا سردار نصیر – حراست میں قتل)،شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، حمید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد

(نوٹ: سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے پوتے قدیر اور سیکیورٹی گارڈ عباس کو حراست کے بعد رہا کر دیا گیا ہے)

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی زہری میں جاری اس فوجی بربریت، ماورائے عدالت قتل، اور جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ ہم قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زہری کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

جاری بیان میں اپنے مطالبات میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ زہری میں نافذ غیر انسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ تمام زیرِ حراست اور لاپتہ افراد، بالخصوص جبری لاپتہ کیے گئے شہریوں کی حالت اور ٹھکانے کو فوری طور پر ظاہر کیا جائے۔اور زہری میں ماورائے عدالت قتل اور تشدد میں ملوث فوجی اہلکاروں اور حکام کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article