بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے 2 جون کو پاکستانی ریاست کے نمائندوں کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر مبنی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ پرامن انسانی حقوق کی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے اسے مسلح گروہوں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ سیاسی اختلاف کو دبانے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔
بی وائی سی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد بلوچستان میں انصاف، احتساب اور انسانی حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں منظم طریقے سے بی وائی سی کے خلاف "نیریٹو وارفیئر” (بیانیے کی جنگ) اور غلط معلومات پھیلا کر جائز سیاسی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے مترادف ہے۔
اعلامیے میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بی وائی سی کی قیادت کو بغیر کسی معتبر ثبوت یا باقاعدہ چارج شیٹ کے گزشتہ 14 ماہ سے زائد عرصے سے پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ قید نہ صرف ملکی قوانین بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر (ICCPR) کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کا پاکستان خود دستخط کنندہ ہے۔ یہ عمل فیئر ٹرائل (شفاف ٹرائل) اور سیاسی شمولیت کے بنیادی حق کی نفی کرتا ہے۔
بی وائی سی نے واضح کیا کہ اپنی تشکیل سے لے کر اب تک یہ تنظیم غیر متشدد سیاسی وکالت اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم رہی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اظہارِ رائے پر پابندیوں جیسے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ریاست پرامن جمہوری آوازوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج اور عوامی آگہی کی مہمات کو مجرمانہ یا عسکری رنگ دینا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
بیان کے اختتام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا قریبی مشاہدہ کریں۔ریاستی اداروں کی جانب سے بنائے گئے من گھڑت بیانیوں کی تحقیقات کریں۔مقامی بلوچ آبادی کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستانی حکام کا محاسبہ کیا جائے۔