جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 6183ویں روز بھی جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6183ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہیں، جن کے باعث متعدد خاندان برسوں سے کرب اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے سلسلے کا فوری خاتمہ کیا جائے، تمام لاپتہ افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے یا انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جب تک جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے عوام، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ اس انسانی مسئلے کو اجاگر کرنے اور متاثرین کی آواز بننے میں اپنا کردار ادا کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article