مشکے میں سخت ترین کرفیو نافذ، لوگ فوجی گھیراؤ میں محصور ہیں، بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آواران کے علاقے مشکے میں دو ہفتوں سے سخت ترین کرفیو جاری ہے۔ بازار، دکانیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ چھوٹے بڑے گاؤں کے لوگ فوجی حصار میں اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ لوگ اپنے کھیتوں، باغات اور دیگر روز مرہ کاموں کے لیے نہیں نکل سکتے۔

ترجمان نے کہا کہ گجر اور دیگر چھوٹے بازاروں کو فوج اپنی نگرانی میں کبھی کبھار دن میں صرف ایک گھنٹے کے لیے کھولنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس محدود وقت سے صرف قریبی آبادیوں کے لوگ اشیائے خورد و نوش خریدنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں، جبکہ دور دراز دیہاتوں کے باشندے اس سہولت سے محروم رہتے ہیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس عید کے موقع پر بھی فوج نے لوگوں کو عیدی اور دیگر ضروری خریداری کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ سخت پابندیوں کے باعث بیشتر خاندان عیدالاضحیٰ پر قربانی کرنے سے بھی محروم رہے۔ پاکستانی فوج چھوٹے شہروں اور پورے پورے دیہات کے مکینوں کو صبح کے وقت فوجی کیمپ میں طلب کرتی ہے اور شام تک انہیں وہاں روکے رکھتی ہے، جہاں ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی جاتی ہے۔

ترجمان نے کہا گزشتہ سال صرف مشکے میں بیس سے زائد لوگوں کو پاکستانی فوج نے کیمپ بلاکر یا حراست میں لے کر تشدد کے ذریعے قتل کردیا۔ اس سال بھی متعدد افراد گرفتار اور گرفتاری کے بعد قتل کیے جاچکے ہیں۔ پاکستانی ریاست کی درندگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ افراد کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، اور بعض مواقع پر شواہد مٹانے اور خوف پھیلانے کے لیے لاشوں کو جلا دیا جاتا ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ مشکے سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو پر نوٹس نہیں لیا گیا تو یہاں جاری انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہم بلوچ سیاسی و انسانی حقوق سے وابستہ کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیش ٹیگ مشکے انڈر سیج ( #MashkaiUnderSiege) کے ہیش ٹیگ سے مشکے کے بحرانی صورت حال پر سوشل میں آواز اٹھاکر اسے اجاگر کرنے میں مدد کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article