نوشکی ، حب اور کراچی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 6 افراد جبری لاپتہ،2 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے نوشکی ، حب اور کراچی سے پاکستانی فورسز نے 6 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ 2 جبری الاپتہ نوجوان ریاستی اذیت خانوں سے بازیاب ہوگئے۔

نوشکی سے اطلاعات ہیں کہ علاقے کلی جمالدینی سے 29 مئی 2026 کی رات تقریباً ایک بجے ایف سی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے گھروں پر چھاپوں کے دوران 36 سالہ اللہ نظر ولد عبدالغیاث اور 17 سالہ طیب ولد آغا محمد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔ اللہ نظر پیشے کے لحاظ سے سیکیورٹی گارڈ جبکہ طیب ایک طالب علم ہیں۔

اسی طرح نوشکی کے علاقے قاضی آباد میں 28 مئی کو ایف سی اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کے دوران 29 سالہ صدام ولد باز محمد کو صبح 11 بجے ان کے گھر سے جبکہ 58 سالہ سعداللہ ولد نصیر خان کو صبح 10 بجے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے رہائشی اور حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل میں کاروبار کرنے والے 37 سالہ محمد حنیف ولد سلیمان کو 12 فروری 2026 کی رات تقریباً دو بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے دارو ہوٹل، حب چوکی سے حراست میں لیا تھا، جن کے بارے میں اب تک کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ادھر کراچی کے علاقے ملیر سے 45 سالہ غلام قادر ولد عبد الکریم کو 31 مئی 2026 کی رات ایک بجے ان کے گھر سے آئی ایس آئی، ایم آئی اور رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے سابق چیئرمین شعیب بنگلزئی 385 روز تک لاپتہ رہنے کے بعد بازیاب ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انہیں گزشتہ سال کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی کے رہائشی عمیر احمد سمالانی ولد میر احمد سمالانی بھی تقریباً چار ماہ بعد خیر و عافیت کے ساتھ بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

ان کی بازیابی کی تصدیق خاندانی ذرائع نے کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article