بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میناز کے رہائشی خداداد ولد عبدالواحد کی والدہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے ایک سال سے لاپتہ بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ خداداد کے کسی بھی اقدام، سرگرمی یا عمل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے کسی فعل کی ذمہ دار ہوں گی۔
والدہ نے کہا کہ خداداد کی گمشدگی پر حکام کو قانونی طور پر آگا ہ کیا لیکن اس کی کوئی خبر نہیں آئی ۔
خداداد کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا غلط فہمی سے بچانے کے لیے یہ وضاحت عوام اور میڈیا کے سامنے رکھ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوںخصوصاً تربت، کوئٹہ، بلیدہ، الندور اور کیچ میں متعدد خاندانوں نے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
لواحقین کا مؤقف ہے کہ انہیں ریاستی دباؤ، سیکیورٹی اداروں کی ہدایات، یا ممکنہ اجتماعی سزا کے خدشات کے باعث ایسے بیانات دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
کئی خاندانوں نے بتایا کہ جبری گمشدگیوں کے بعد وہ پہلے ہی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے، تاہم اب انہیں زمین و جائیداد ضبطی، ملازمت سے برطرفی، یا قانونی کارروائی جیسے ممکنہ نتائج سے ڈرایا جاتا ہے۔
تربت اور کوئٹہ میں گزشتہ ہفتوں کے دوران متعدد خاندانوں نے اسی نوعیت کی پریس کانفرنسیں کیں جن میں اپنے پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا۔
کچھ خاندانوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ لاتعلقی کا اعلان نہ کریں تو انہیں آزادی پسند تنظیموں سے تعلق کے شبے میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ان عوامل کے باعث بلوچستان میں لاتعلقی کے بیانات ایک سماجی و سیاسی رجحان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔