کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 6181ویں روز بھی جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز پیر تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں 6181ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بشیر احمد نیچاری سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنما نیاز محمد نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق، آئینِ پاکستان اور ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور کسی بھی فرد کو قانون کے دائرے سے باہر حراست میں رکھنے یا لاپتہ کرنے کے عمل کا خاتمہ کریں۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان، عدلیہ، پارلیمان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور جبری گمشدگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

نیاز محمد نے کہا کہ جب تک جبری گمشدگیوں کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوتا، متاثرہ خاندانوں کی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article