بی ایل ایف کی ماہِ مئی کی آپریشنل رپورٹ جاری ،49 کارروائیوں میں 65 فوجی اہلکار ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے تنظیم کے ماہِ مئی کی آپریشنل رپورٹ میڈیا کو جاری کردی ہے جس میں کہا گیا کہ 49 کارروائیوں میں دشمن کے فوجی قافلوں اور چوکیوں پر مہلک حملوں میں 65 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ پولیس تھانوں پر قبضہ اور سرکاری اسلحات بھی ضبط کئے گئے۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مئی 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی اداروں، استعماری دفاعی تنصیبات، مواصلاتی نظام اور استحصالی منصوبوں پر حملوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ ان منظم کارروائیوں کا دائرہ کار خاران، واشک، آواران، مستونگ، تربت، تمپ، رکھنی، جیونی، کولواہ، سوراب، مند، جھاؤ، شاپک، حب، بلیدہ، وڈھ، مشکے، چاغی، بارکھان، دشت، نوشکی، جوسک، وندر،کلانچ اور گورکوپ سمیت 25 مختلف علاقوں تک پھیلا رہا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد قابض ریاست کے استعماری ڈھانچے و استحصالی نظام کو کمزور کرنا، اور مقبوضہ بلوچستان میں اس کی عسکری گرفت و استعماری عمل داری کو جڑوں سے ختم کرنا ہے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مئی کے مہینے میں مجموعی طور پر 49 مسلح کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں تزویراتی حکمت عملی کے تحت دشمن کو ہر محاذ پر زک پہنچائی گئی ہے۔ بی ایل ایف کی ان منظم حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 65 اہلکار ہلاک اور 19 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان معرکوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سرمچاروں کی کامیاب عسکری منصوبہ بندی کے باعث دشمن کے لیے بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ، خواہ وہ شہری مراکز ہوں یا دور افتادہ پہاڑی سلسلے، محفوظ نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ تزویراتی لحاظ سے مئی کی سب سے اہم نوعیت کی کارروائیاں دشمن کے متحرک فوجی قافلوں پر حملوں کی صورت سرانجام دی گئیں۔ سرمچاروں نے سوراب، بلیدہ، مشکے، کولواہ، دشت، نوشکی اور تربت کے مختلف علاقوں میں 8 مرتبہ گھات لگا کر دشمن کے فوجی قافلوں پر مربوط و مہلک حملے کیے۔ سرمچاروں نے ان حملوں میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ قابض فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، علاقے پر اپنا کنٹرول اور اثر رسوخ برقرار رکھنے کے لیے سرمچاروں نے بڑی شاہراہوں پر 4 مختلف مقامات پر ناکہ لگا کر اپنا کنٹرول قائم کیا اور گاڑیوں کی تلاشی لی۔

بیان میں کہا گیا کہ اپنی عسکری پیش قدمی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دشمن کے 3 بڑے فوجی کیمپوں اور 13 اہم فوجی چیک پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کرکے ان کے پوزیشنوں کو نشانہ بنائے۔ ان حملوں کے دوران دشمن کے دفاعی حصار کو توڑ کر اسے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ انٹیلیجنس کے محاذ پر بھی دشمن کو زک پہنچاتے ہوئے سرمچاروں نے مئی میں 3 انٹیلیجنس بیسڈ منظم آپریشنز کیے، جن کے دوران تحریک کے خلاف مخبری کے نیٹ ورک منظم کرنے والے دشمن کے 16 کلیدی ایجنٹس اور آلہ کاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، جبکہ خضدار اور وندر کے علاقے میں معدنیات کی استحصال میں ملوث ایک کمپنی اور گاڑیوں پر بھی حملہ کرکے اسے نقصان پہنچایا کیا گیا۔

بی ایل ایف کے مطابق دشمن کے تکنیکی اور مواصلاتی نظام کو ناکام اور غیر موثر کرنے کے لیے سرمچاروں نے دشمن کی طرف سے نصب جاسوسی اور نگرانی کے جدید آلات اور نظام کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن کے 3 ڈرون مار گرائے، جبکہ بصری نگرانی کے لیے نصب کردہ 11 جدید کیمروں کو ہدف بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ دشمن کے مواصلاتی روابط منقطع کرنے کے لیے سرمچاروں نے 4 موبائل ٹاورز کو بھی تباہ کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ دشمن کو مالی و مادی نقصانات پہنچانے، اور اس کی ذرائع نقل و حرکت کو تباہ کرنے کی غرض سے مجموعی طور پر 7 فوجی گاڑیوں کو بارودی مواد اور راکٹوں کی مدد سے تباہ کی گئیں۔ سرمچاروں نے مختلف جھڑپوں اور کامیاب چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران دشمن کے اہلکاروں سے 13 رائفل، گولیاں، میگزین اور دیگر عسکری ساز و سامان قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے عسکری کارروائیوں میں تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ بھی دشمن کے خلاف مختلف جنگی حربے استعمال کیے۔ مجموعی طور پر 21 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، جن میں 5 مرتبہ گھات لگا کر حملے کیے گئے، 3 بار سنائپر رائفل سے دشمن کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، 4 مرتبہ گرنیڈ لانچر سے کارروائیاں کی گئیں، اور 1 آئی ای ڈی (IED) دھماکہ کیا گیا۔ یہ متنوع حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی، اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ماہِ مئی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 3 جانباز سرمچاروں نے مادرِ وطن کی آزادی اور قومی بقا کی اس عظیم جنگ میں دشمن کے خلاف دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان شہداء نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جدوجہدِ آزادی کی چراغ کو اپنے لہو سے روشن رکھا۔ شہید سرمچاروں نے اپنی قربانی سے دشمن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کو فوجی طاقت و جبر سے زیر دست و محکوم رکھنا ممکن نہں۔ قومی آزادی کی عظیم مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان تمام قومی شہداء کو بی ایل ایف خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ شہداء کا مشن بلوچستان کی آزادی کے حصول تک جاری رہے گا، اور دشمن سے ان کی لہو کے ایک ایک قطرے کا حساب میدانِ جنگ میں لیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article