بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں ریاستی مخبر علی شیر کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 28 مئی 2026 کو کلانچ کے علاقے ڈاک بازار میں بلوچ قومی مجرم اور ریاستی آلہ کار علی شیر ولد لعل بخش کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ سرمچاروں نے کلانچ، ڈاک بازار میں علی شیر کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رکنے کے بجائے بھاگ کر ایک گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ سرمچاروں نے اس کا تعاقب کرکے اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کی مگر اس نے گرفتاری دینے کے بجائے سرمچاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ سرمچاروں نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
ترجمان نے کہا کہ علی شیر ولد لعل بخش، سکنہ کلانچ، واجہ بازار قابض ریاست کے خفیہ اداروں کا آلہ کار تھا۔ وہ نیول انٹیلی جنس کے لیے مخبری جیسے سنگین قومی جرائم میں براہِ راست ملوث تھا۔ کلانچ کے پہاڑی علاقوں میں ہونے والے متعدد فوجی آپریشنز میں بھی علی شیر قابض فوج کی رہنمائی اور کمک کرتا رہا ہے۔ تنظیم کی جانب سے متعدد بار خبردار کیے جانے کے باوجود وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف اپنی معاندانہ سرگرمیوں سے باز نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ علی شیر پسنی، کلانچ اور شادی کور کے علاقوں میں آئی ایس آئی کے ایک اور اہم کارندے بالاچ کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ قابض فوج کی سرپرستی میں بالاچ کا اپنا ایک نجی عقوبت خانہ قائم ہے، جہاں وہ بلوچ تحریک سے منسلک سیاسی کارکنان کو اغوا کر کے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور جبر کے زور پر ریاست کے ساتھ تعاون پر مجبور کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف بالاچ سمیت ان تمام مقامی مخبروں، ضمیر فروشوں اور ریاستی کارندوں کو آخری بار صاف اور سیدھے لفظوں میں خبردار کرتی ہے کہ وہ قابض فوج کی دلالی، تحریک آزادی کے خلاف مخبری اور بلوچ فرزندوں کے اغوا و تشدد سے فوری طور پر باز آ جائیں ورنہ اپنے منطقی انجام کے لیے تیار رہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کلانچ میں ریاستی مخبر علی شیر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔