پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی امن و امان اور سیکورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں کرفیو نافذ ہے جبکہ بلوچستان کے علاقے مشکے میں بھی گزشتہ کئی روز سے مسلسل کرفیو برقرار ہے جس کے باعث ان علاقوں میں شدید غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے اور معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔
حامد میر کے مطابق، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں بظاہر تو باقاعدہ کرفیو نافذ نہیں کیا گیا، تاہم وہاں خوف و ہراس کے باعث سڑکیں مکمل طور پر ویران دکھائی دیتی ہیں یا پھر بعض مقامات پر حکومتی کنٹرول اور رٹ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے موجودہ ملکی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بنا کسی تاخیر کے فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس اے پی سی بلائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی و ریاستی سطح پر سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہو چکی ہے، لہذا حکومت تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ اور قومی لائحہ عمل اختیار کرے تاکہ عوامی مشکلات کا فوری سدباب ہو سکے اور سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔