مشکے بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں کرفیوکانفاذ،حامدمیر کا اے پی سی بلانے کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی امن و امان اور سیکورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں کرفیو نافذ ہے جبکہ بلوچستان کے علاقے مشکے میں بھی گزشتہ کئی روز سے مسلسل کرفیو برقرار ہے جس کے باعث ان علاقوں میں شدید غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے اور معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

حامد میر کے مطابق، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں بظاہر تو باقاعدہ کرفیو نافذ نہیں کیا گیا، تاہم وہاں خوف و ہراس کے باعث سڑکیں مکمل طور پر ویران دکھائی دیتی ہیں یا پھر بعض مقامات پر حکومتی کنٹرول اور رٹ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

انہوں نے موجودہ ملکی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بنا کسی تاخیر کے فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس اے پی سی بلائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی و ریاستی سطح پر سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہو چکی ہے، لہذا حکومت تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ اور قومی لائحہ عمل اختیار کرے تاکہ عوامی مشکلات کا فوری سدباب ہو سکے اور سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article