بارکھان میں ریاستی دہشت گردی پر بروقت ردعمل دیتے ہوئے 11 فوجی اہلکار ہلاک کیے،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں بارکھان میں ریاستی دہشت گردی پر بروقت ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے 11 اہلکار وں ہلاکت اور ڈرون تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق 12 اپریل 2026 کو دن گیارہ بجے کے قریب، بالاچ لوہارانی، مری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بارکھان کے علاقے لہومہ زرین، نہارکوٹ روڈ پر سفر کر رہے تھے کہ قابض پاکستانی فوج نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت گاڑی میں سوار خاندان کے بیشتر افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ ایف سی نے بلوچ قوم کے خلاف اپنی دیرینہ نفرت، دہشت گردانہ روایت اور جنگی جرائم کا عمل جاری رکھتے ہوئے شہید ہونے والے معصوم خاندان کی لاشوں کو آگ لگا کر جلا دیا۔

انہوں نے کہا کہ قابض فوج کے ہاتھوں نہتے معصوم خواتین و بچوں سمیت اس خاندان کی وحشیانہ قتل عام کے وقت بی ایل ایف کے سرمچار قریبی علاقے میں اپنے معمول کے گشت پر مامور تھے۔ اس خونین ریاستی جارحیت میں ایک معصوم بلوچ خاندان کا خون بہائے جانے کی اطلاع ملتے ہی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، اور قابض پاکستانی فوج کے دستوں کو چاروں اطراف سے گھیر کر ان پر حملہ کردیا۔ قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان 9 گھنٹوں تک اعصاب شکن جھڑپ جاری رہی۔ سرمچاروں کے پے درپے حملوں کے نتیجے میں 11 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ جھڑپ کے دوران دشمن فوج نے اپنے دستوں کی فضائی مدد اور نگرانی کے لیے ڈرون استعمال کیا جسے بروقت فائرنگ کرکے سرمچاروں نے مار گرا دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بارکھان کا یہ واقعہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ بلوچستان پر قائم پاکستانی قبضے کو طول دینے کے لیے کی جانے والی منظم بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نوآبادیاتی طاقت مقبوضہ خطوں میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اسی طرح کے بہیمانہ جبر، اجتماعی سزا اور ماورائے عدالت قتل عام کا سہارا لیتی رہی ہے۔ پاکستان انہی استعماری خطوط پر کاربند ہو کر بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ان کی قومی بقا اور آزادی کی جدوجہد کو کچلا جا سکے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بارکھان میں بالاچ لوہارانی، مری کی اہل خانہ کے قتل عام کے ردعمل میں اس بر وقت کارروائی میں 11 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، اور بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ معصوم خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ قابض ریاست پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف جاری یہ قومی دفاعی جنگ مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article