بلوچستان کے مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، حالیہ دنوں میں پاکستانی فورسز کی جانب سے فضائی و زمینی نقل و حرکت اور ناکہ بندیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث متعدد علاقوں میں مقامی آبادیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقائی اور مقامی ذرائع کے مطابق، ضلع کیچ کی تحصیل زامران کے مختلف دور افتادہ علاقوں بشمول ‘درپگان’، ‘مومیچ’، ‘جالگی’ اور ان کے گردونواح میں آج صبح سے فورسز کی جانب سے ایک وسیع سرگرمی کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور آمد و رفت تاحال جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بعض مقامات پر شیلنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی ساہیجی اور کوہاڑ کے علاقوں میں اسی نوعیت کی زمینی اور فضائی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی۔
دوسری جانب، ضلع مستونگ کے علاقے ‘اسپلنجی سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، عید کے پہلے روز آبادی والے علاقوں کے قریب مارٹر گولے گرنے کے واقعات پیش آئے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایک مارٹر گولا باغ میں گرنے کے نتیجے میں وہاں موجود ۴ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ کچھ مارٹر گھروں پر بھی گرے، تاہم کسی جانی نقصان کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
ضلع آواران کی تحصیل مشکے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ۱۵ دنوں سے علاقے میں سخت لاک ڈاؤن اور کرفیو جیسی صورتحال نافذ ہے۔
مقامی آبادی کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی کے باعث خطے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سخت ناکہ بندیوں کی وجہ سے بیمار افراد کو ہسپتالوں یا ڈاکٹروں تک پہنچانے میں شدید ترین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
اسی طرح کی صورتحال نوشکی شہر اور زہری کے علاقوں میں بھی گزشتہ کئی مہینوں سے برقرار بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، عید کے پُرمسرت موقع پر بھی ان علاقوں کے بازار اور مارکیٹیں سنسان دکھائی دیں، جبکہ ماضی میں اس طویل لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر مریضوں کے انتقال کر جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
متعلقہ حکام یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان ناکہ بندیوں اور آپریشنز کے حوالے سے تاحال کوئی باقاعدہ یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔