بلوچستان کے ضلع خاران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، عیدالاضحیٰ کے موقع پر تازینہ اور ‘اُلمرک’ کے مقامات پر بلوچ آزادی پسندوں (سرمچاروں) نے عیدگاہوں میں عوامی اجتماعات سے براہِ راست خطاب کیا ہے۔
سرمچاروں نے عید کے اجتماعات میں شریک عوام سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں قومی جدوجہدِ آزادی میں اپنا فعال کردار ادا کرنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی تلقین کی۔
اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مسلح آزادی پسندوں نے عوام سے مکمل اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کی اور کہا کہ "غلامی ایک لعنت ہے، اور اس کے خلاف ہمیں متحد ہو کر جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔
” انہوں نے زور دیا کہ بلوچ قوم کی بقا، عزت اور وقار صرف اور صرف قومی آزادی میں مضمر ہے۔
ذرئع کا کہنا ہے کہ اجتماعات میں موجود لوگوں نے سرمچاروں سے روایتی محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کا مؤقف توجہ سے سنا، جبکہ بعد ازاں مقامی لوگ ان سے گھل مل گئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عید الفطر کے موقع پر بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرمچاروں نے عید اجتماعات سے خطاب کیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بلوچستان کے متعدد علاقوں اور اہم ترین قومی شاہراہوں پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کا مکمل کنٹرول قائم ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج ان علاقوں میں مکمل طور پر دفاعی پوزیشن (Defensive Position) میں آ چکی ہے۔
اس دوران مسلح تنظیموں کی جانب سے بلوچستان کے معدنی وسائل لے جانے والی گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئلے اور دیگر خام مال سے لدی درجنوں گاڑیاں نذرِ آتش کی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال ہنوز جاری ہے۔
اس کے علاوہ، سونے اور تانبے کے عالمی منصوبوں سیندک’ اور ‘ریکوڈک’ پروجیکٹس سے وابستہ کئی افراد کو مسلح تنظیموں کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے اب تک ۴ سے ۵ افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔
علاوہ ازیں، مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مسلح افراد نے کئی پولیس تھانوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے جبکہ فورسز کے متعدد اہلکاروں کو بھی حراست میں لے کر قیدی بنا لیا گیا ہے۔
شاہراہوں پر ناکہ بندی اور چیکنگ کے دوران مسلح افراد نے پاکستانی فوج سے وابستہ ایک سینیئر آفیسر، جو ایئرپورٹ سیکورٹی فورس (ASF) کے ڈائریکٹر بتائے جاتے ہیں، کو بھی گاڑی سے اتار کر گرفتار کر لیا ہے۔
ان تمام وسیع تر کارروائیوں، ناکہ بندیوں، تھانوں کو جلانے اور ہائی پروفائل گرفتاریوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کر لی ہے۔
تنظیموں کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بلوچستان کے ماحولیاتی اور معدنی وسائل کی بے دردی سے جاری لوٹ کھسوٹ کو روکنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور کسی بھی صورت خطے کے وسائل کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔